صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 25 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 25

26 اس مقام پر کوئی نشان پیدا کریں تا کہ اس پرانے نظریے کی تائید یا تردید ہو سکے۔مگر اب تک کوئی ایسا نشان نہ ملا۔البتہ باب 33 اور باب 34 کے درمیان تین سطور کی جگہ خالی تھی۔اس سے یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ ایسینی فرقہ کے نزدیک دوسرے یسعیاہ کی کتاب باب 34 سے شروع ہوتی تھی۔اس سے ایک دوسرے نظریے کی تائید ہوتی ہے۔جو صحائف کی دریافت يسعياه سے قبل اسطرف گیا تھا کہ دوسرے یسعیا کی کتاب باب 34 سے شروع ہوتی ہے۔یسعیاہ ب کے صحیفے کو نقصان پہنچا ہے۔غار میں رکھنے سے قبل یہ اچھی حالت میں تھا۔اس کی کسی جگہ سے مرمت نہیں کی گئی۔اس کی تہیں آپس میں سختی سے جڑی ہوئی ہیں۔میڈیکو کا خیال ہے کہ غار میں رکھنے سے پہلے اس کو گیلا ہونے کی حالت میں مروڑا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ اس کو کھولنے کے لئے ماہرین فن کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔اس کی تحریر کا رنگ اڑ چکا ہے۔آخر سے صرف چند کالم حاصل ہو سکے ہیں۔ان کو زیریں سرخ تصاویر کی مدد سے پڑھا گیا ہے۔اس کا فن رہیوں کے فن سے مکمل اتفاق کرتا ہے۔اس میں معمولی اصلاح کی گئی ہے۔اس کی تحریر صاف اور خوبصورت ہے۔محققین کا خیال ہے کہ یہ دوسری صدی عیسوی میں کسی وقت لکھا گیا۔یہ اس وقت یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کی تحویل میں ہے۔ان صحائف کی اہمیت اس امر سے واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے پیش نظر شاہ جیمز کے ترجمے کے نئے ایڈیشن میں پندرہ (۱۵) مقامات پر تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔یہ ترجمہ ستمبر 1952ء میں شائع ہوائیے دستور العمل : یہ صحیفہ 1947ء میں غار نمبر 1 سے محمد الذئب چرواہے نے حاصل کیا اس کے بہت سے ٹکڑے غار نمبر 4 میں سے بھی ملے ہیں۔ان کی تحریروں سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اخوت ایسین کے پاس اس کے کم از کم گیارہ نسخے موجود تھے۔ان میں سے دو پے پیرس (Papyrus) کے اور باقی چمڑے کے تھے۔دو نسخوں کا متن باقی نو کی نسبت بہت مختصر ہے۔غالباً وہ اس کا ابتدائی متن ہے۔جو زیر بحث صحیفے کے پانچویں کالم میں شامل ہے۔مختلف نسخوں کے متون میں متعدد اختلافات ہیں The lost year of Jesus Revealed 1