صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 18 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 18

19 اور اس کتاب کی پیشگوئیوں کو اپنے زمانے پر چسپاں کرتا ہے اور ان کی تفصیلات کو جماعت کے پیش آنے والے روز مرہ کے واقعات پر منطبق کرتا ہے۔ان واقعات میں " کتم (Kittim) مکار انسان، بدکار کاھن ابو شالیم کے گھرانے اور خصوصاً ”استاد صادق“ کا ذکر بار بار آتا ہے۔ان ناموں سے کیا مراد ہے؟ اور ان کے پیچھے کون کونسی شخصیات پوشیدہ ہیں؟ اس امر پر متفقین میں شدید اختلاف ہے۔صرف کم کی تشخیص میں علماء رومیوں پر متفق ہو سکے ہیں۔صحیفے کا زمانہ تحریر پہلی صدی عیسوی کا آخری ربع ہے۔لے پہلے کا تب نے باب دو آیت 18 تک تغییر کرنے کے بعد صحھنے کوختم کر دیا۔مگر دوسرے کا تب نے انگلی دو آیات بھی شامل کر دیں۔اس نے ان کی تفسیر اسی نہج پر چلانے کی کوشش کی ہے۔محققین ابھی تک یہ معمہ حل نہیں کر پائے کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ یہ تو صاف ظاہر ہے کہ پہلے کا تب کی کتاب حبقوق 2/18 پرختم ہو جاتی تھی۔مگر دوسرے کاتب کے نسخے میں مزید دو آیات بھی درج تھیں۔ان کی تفسیر اس نے اپنی طرف سے شامل کر دی۔اس سے بھی زیادہ حیران کن یہ بات ہے کہ اس تفسیر میں کتاب کا موجودہ تیسرا باب بالکل نہیں ملتا۔یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ باب جو ایک دعا پر مشتمل ہے کب اور کس کے ہاتھوں بڑھایا گیا؟ ڈین میڈیکو کا خیال ہے کہ یہ دونوں اضافے پہلی صدی عیسوی میں فلسطین میں کئے گئے کے دوسرے کا تب کا نکما خط بتا رہا ہے کہ وہ کسی غیر مہذب دیہاتی علاقے کا رہنے والا تھا۔اور فن کتابت سے نا آشنا تھا۔اس کے علاوہ تیسرے باب میں واقعہ صلیب کی طرف اشارات ملتے ہیں۔اس میں ” بیونیم یعنی غریبوں کا ذکر بھی ہے۔جو یروشلم کے عیسائیوں کا خاص نام تھا۔یہ اس امر کے لئے زبر دست قرینہ ہے کہ یہ باب واقعہ صلیب کے بعد مسیحی اثر کے تحت بڑھایا گیا۔اس میں آپ کو مسیح (ممسوح) کا ذکر بھی ملے گا۔بعض آیات درج ذیل ہیں جو خدا تعالی کو مخاطب کر کے لکھی ہیں:۔66 The Riddle of the Scrolls P-148 ،