صحائف وادئ قمران — Page 185
190 of both churches is essentially that of unity, communion in love even going as for as the sharing of common property۔" "All these similarities and here I only touch upon the subject taken together, constitute a very impressive whole۔" ترجمہ بالکل استاد صادق کی مانند کلیلی آقا نے تو بہ غربت، عاجزی عسائے محبت اور پاکدامنی کی تعلیم دی۔اسی کی طرح استاد صادق نے یہودی شریعت کی پیروی کی تعلیم دی۔دونوں بھی خدا کے چنیدہ اور مسیح تھے۔دنیا کے نجات دھندہ اسے بھی صلیب دی گئی ، اس نے بھی سیر و علم پر تباہی کی خبر دی چنانچہ وہ رومنوں کے ذریعہ تباہ ہوا۔اس نے بھی ایک کلیسا کی بنیاد رکھی جس میں اس کی آمد ثانی کا آخری زمانے میں شدت سے انتظار تھا۔دونوں میں قربانی کی ضیافت اہم ہے جس کی میز بانی پادری یا کا ہن کرتے ہیں۔دونوں کلیساؤں میں (عیسائی ایسینی ) رسومات کی نگرانی کیلئے ایک نگران ہوتا ہے دونوں کلیساؤں کے مقاصد اتحاد باہمی، اجتمائی محبت حتی کہ جائیداد میں شراکت بھی مشابہ ہے۔یہ ساری مشابہتیں جو میں نے اجزاء کی صورت بیان کی ہیں مل کر ایک نہایت موثر کل بتاتی ہیں جس سے مجموعی صورت ابھر کر سامنے آتی ہے۔نظریہ بروز کی وجہ ایسینی فرقے کا آغاز دوسری صدی قبل مسیح کے آخر میں ہوا۔اور پہلی یہودی بغاوت (68-70ء) کے ساتھ ہی اس کا شیرازہ بکھر گیا۔مسیحی محققین نے جب دیکھا کہ مسیح کی زندگی اور تعلیمات استاد صادق کی زندگی اور تعلیمات سے مکمل اتحاد رکھتی ہیں۔تو انہیں یہ فکر ہوئی کہ استاد صادق کو کس زمانے میں رکھا جائے؟ اگر وہ اسے ایسینی فرقے کے آخری ایام میں جگہ دیتے تو یروشلم میں ایک ہی وقت میں دو انبیاء کیسے سما سکتے تھے؟ پھر تو لازما یہ تسلیم کرنا پڑتا تھا Impact of the Dead sea scrolls۔P-122 1