صحائف وادئ قمران — Page 173
178 گ گئے۔استاد صادق نے بھی بالکل یہی پیشگوئی فرمائی کہ اس کی وفات کے چالیس سال بعد یروشلم پر ایک عظیم الشان تباہی آئے گی اور انسان کاذب (Man of Falsehood) اور اس کے ساتھیوں کا انجام ہوگا۔Gilpes اپنی کتاب The Impact of the Scrolls کے صفحہ 112 پر لکھتے ہیں: "Thirdly we are told About forty years will elapse from the death of the teacher of the community until all the men who take up arms and elapse in the company of the 'Man of falsehood' are brought to an end۔" ترجمہ " تیسری بات ہمیں یہ بتائی جاتی ہے کہ استاد صادق کی وفات پر تقریباً چالیس سال گزرنے کے بعد وہ تمام آدمی جو انسان کا ذب کا ساتھ دیتے اور ہتھیاروں سے لیس ہوئے ہیں تباہ کر دئے جائیں گے۔یروشلم پر کس کی پیشگوئی کے 40 سال بعد تباہی آتی ؟ کیا وہ صحیح ہی نہ تھے۔پس وہی استاد صادق تھے۔-4 حضرت مسیح علیہ السلام کے متبعین آپ کا بہت احترام کرتے تھے۔اور آپ کو " آقا " کے لقب سے یاد کرتے تھے اور آپکی ناراضگی کو اپنے لئے مہلک تصور کرتے تھے۔بالکل یہی حال استاد صادق کے شاگردوں کا ہمیں نظر آتا ہے جن کے متعلق F۔Moore اپنی کتاب The Ancient Library of Qumran کے صفحہ 119 پر لکھتے ہیں: "The Essences regared their Master with a respect which approached adoration۔" ترجمہ: دوریسینی اپنے آقا کا حد درجہ احترام کرتے تھے اور اس سے نہائیت درجہ عقیدت لے استاد صادق کی موت کا صحائف میں کہیں ذکر نہیں۔اس بارہ میں وقت آنے پر تفصیل سے ذکر کیا جائیگا۔یہاں محقق مذکور نے فطرت کی آواز کے تحت موت کا لفظ استعمال کیا ہے کہ بہر حال استاد صادق مر گیا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ وہ وقت کی کوئی تعین نہیں کرسکتا۔