صحائف وادئ قمران — Page 174
179 رکھتے تھے۔“ اسی صفحہ پر آگے چل کر لکھا ہے: "He was in the eyes of his later disciples an eschatological figure predicted in scripture who was to aid in bringing the New Age to birth۔" ترجمہ "اپنے بعد کے حواریوں کی نگاہ میں وہ عالم معاد سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت تھے جس کے متعلق کتب مقدسہ میں پیشنگوئیاں کی گئی تھیں اور جو عہد جدید کے برپا کرنے میں جوعہد جدید کے مدد کرنے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔“ حضرت مسیح ناصری کی بعثت کا مقصد عہد جدید کی آمد کی مندی کرنا اور اس کا آغاز کرنا تھا۔انا جیل میں آپ بار بار اس بات کا ذکر کرتے ہیں۔متی 4/17 میں لکھا ہے۔مسیح نے کہا: تو به کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے“ استاد صادق بھی بالکل یہ مشن لیکر مبعوث ہوئے۔انہوں نے عہد تو بہ کی منادی کی۔عہد جدید کا آغاز کیا اور عہد جدید کی ایک جماعت تیار کی۔-5 حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں ہی معرفت کا جام پلایا اور اپنے کلام سے سرفراز فرمایا۔اور اپنی خاص حفاظت میں آپ کی پرورش فرمائی۔چنانچہ فرمایا اذقال الله يعيسـى بـن مـريـم اذكر نعمتی علیک و علی والدتک اذایدتک بروح القدس تكلم الناس في المهدو كهلا۔ترجمہ: جب اللہ تعالی نے فرمایا اے عیسی بن مریم میری اس نعمت کو یاد کر جو میں نے تجھ پر اور تیری والدہ پر کی اور جب میں نے روح القدس سے تیری تائید کی اور تو بچپن میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرتا تھا۔اس نعمت خداوندی کا شکر حضرت مسیح علیہ السلام نے ان الفاظ میں ادا کیا: یسوع نے کہا: اے باپ آسمان اور زمین کے خداوند! میں تیری حمد کرتا ہوں کہ تو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چھپائیں اور بچوں پر ظاہر کیں۔ہاں اے باپ کیونکہ ایسا ہی۔5/111 L