صحائف وادئ قمران — Page 159
163 کرے گا۔اس کو سمندر اور دریا بھی پاک نہیں کر سکتے خواہ کسی بھی صاف کرنے والے پانی سے اس کو صاف کیا جائے۔(وہ صاف نہ ہوگا ) جماعت قمران ایک مسیح کے انتظار میں تھی جو ہارون کی اولاد میں سے آنے والا تھا۔اس کے آنے سے خدائی بادشاہت آئے گی۔اور جماعت کی تکالیف کا خاتمہ ہو جائیگا۔بعض محققین کے نزدیک جماعت کو دو مسیحیوں کی انتظار تھی۔دوسرا مسیح داؤد کی نسل سے پیدا ہونے والا تھا۔بنیادی طور پر ایسینی ہیکل کا احترام کرتے تھے اور متعلقہ قربانیوں کے قائل تھے۔لیکن وہ کا ہن اعظم سے اختلاف کے باعث موجودہ حالات میں یہ عبادات بجانہ لا سکتے تھے۔آئندہ چالیس سال کے بعد جب وہ ہیکل پر قابض ہو جائیں گے تو پھر اس میں عبادات بجا لا ئینگے اور اس کے لئے قوانین صحیفہ جنگ میں بیان کئے گئے ہیں۔فی الحال ان کا عمل امثال 15/8 پر تھا جس کا حوالہ صحیفہ دمشق کالم 11 سطر 20 میں دیا گیا ہے کہ بد کردار کی قربانی خداوند کی ناراضستگی کا باعث ہے۔“ بعض محققین کا خیال ہے کہ ایسیوں نے ہیکل کی عبادت اور قربانیوں کے بدلے درمیانی عرصہ کے لئے اجتماعی طعام جو مقدس سمجھے جاتے تھے۔اختیار کر رکھے تھے۔قربانی چونکہ ہیکل کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں دی جا سکتی اس لئے ان کھانوں میں گوشت شامل نہ ہوتا تھا بلکہ صرف روٹی اور شراب پر اکتفا کیا جاتا تھا اور انہیں کا صحائف قمران میں ذکر بھی ملتا ہے۔تا ہم ان کھانوں میں طہارت کے انہیں اصولوں کی پابندی کی جاتی تھی جو ہیکل میں کا ہنوں کے کھانے میں ملحوظ رکھے جاتے تھے۔کھنڈرات سے بعض ہڈیوں کے ملنے سے محققین پریشان ہیں کہ وہ کہاں سے آگئیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسینی اپنے مرکز میں قربانی پیش کرتے تھے بعض کا خیال ہے کہ جب تمام ایسینی سال میں ایک بار عہد کی تجدید کیلئے مرکز میں جمع ہوتے تھے تو اس وقت جو جانور ذبح کیا جاتا تھا اس کی ہڈیاں برتن میں رکھدی گئیں۔