صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 151 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 151

155 فیصلہ کن کردار ادا کیا۔حیاتیاتی مادے میں کاربن کا عنصر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔کاربن کا ایمی وزن 12 ہوتا ہے اور نائٹروجن کا 14 جب کہ فضائے بسیط میں کا سمک شعائیں نائٹروجن کے ایٹموں سے ٹکراتی ہیں۔تو وہ اس سے دو الیکٹران چھین لیتی ہیں۔اور اسی طرح اسے بھاری کاربن میں بدل دیتی ہیں۔اس کا ایٹمی وزن 14 ہوتا ہے۔اس لئے اس کو کاربن 14 کہتے ہیں یہ زیادہ عامل ہونے کے باعث آکسیجن کے ساتھ کیمیائی ملاپ کر کے کاربن ڈائی آکسائیڈ بنالیتی ہے۔حیاتیاتی مادے عام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ اس وزنی کارین ڈائی آکسائیڈ کو بھی جذب کر لیتے ہیں اس طرح حیاتیاتی مادے میں خفیف مقدار میں کاربن 14 شامل ہو جاتی ہے۔یہ کاربن تابکار ہوتی ہے چنانچہ جب کسی حیاتیاتی مادے کی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔تو یہ عام کاربن میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ریڈیم کی طرح اس کی تابکاری کی شرح یکساں ہوتی ہے۔اس لئے کسی مردہ حیاتیاتی مادے میں کاربن 14 کی مقدار معلوم کر کے اس کی موت کا وقت معلوم کیا جا سکتا ہے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ ساڑھے پانچ ہزار سال گزرنے پر کسی حیاتیاتی مادے میں اس کی مقدار ابتدائی مقدار سے نصف رہ جاتی ہے۔چنانچہ جس مادے کا زمانہ دریافت کرنا ہو۔اسے جلا کر اس کا کوئلہ حاصل کیا جاتا ہے جس میں تمام کاربن موجود ہوتی ہے پھر نہایت حساس ریڈیشن کونٹر کے ذریعے کاربن 14 کی نسبت معلوم کی جاتی ہے جس سے اس مادے کا زمانہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس طریقہ سے حاصل ہونے والے زمانہ میں دس فیصد کمی بیشی کا امکان ہوتا ہے۔شکاگو یونیورسٹی: وادی قمران کی غاروں سے حاصل ہونے والا کپڑا شکا گو یونیورسٹی امریکہ میں بھیجوایا گیا۔ڈبلیو۔ایف اسی کی نگرانی میں کاربن 14 کا ٹیسٹ اس پر کیا گیا چنانچہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ اسی کے ریشے جن سے کپڑا بنا گیا ہے 33 عیسوی میں کاٹے گئے انہوں نے کہا اس میں دو سو سال کی کمی بیشی کا امکان ہے۔چنانچہ گلگیز لکھتا ہے۔"It was therefore a thrilling confermation of previons by pophenes where doctor Libby