صحائف وادئ قمران — Page 139
143 ساتھ رات کا کھانا کھائیں۔گھر کی بے حرمتی سے بچنے کے لئے وہاں کوئی شور و غوغا نہیں ہونے دیتے۔بلکہ ہر شخص باری پر بات کرسکتا ہے۔باہر کے لوگوں کے لئے اس خاموشی کو بیان کرنا بڑا عجیب اور پر اسرار معلوم ہوتا ہے۔لیکن یہ خاموشی ان کی متانت کی وجہ سے ہے۔اور متانت اس وجہ سے کہ ان سب کو صرف ان کی ضرورت کے مطابق اور مناسب حال خوراک دی جاتی ہے۔اور ضرورت سے زائد نہیں دی جاتی۔“۔پلینی ، فلو اور جو زمینس کے علاوہ مندرجہ ذیل تاریخی حقائق بھی ایسینیوں کی بعض تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہیں۔متفرق تاریخی شواہد : حضرت عمر کے زمانہ میں جب مسلمانوں نے تستر (خوزستان) کا شہر فتح کیا تو انہیں ایک برتن ملا۔کھولنے پر اس سے ایک قدیم عبرانی صحیفہ حاصل ہوا اسے پڑھ کر نعیم اور بیالیس دوسرے یہودی علماء نے اسلام قبول کیا۔اس عبرانی صحیفہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبی موعود کی روشن علامات درج تھیں۔تستر وہی مقام ہے جہاں ایک روایت کے مطابق دانیال نبی کا تابوت ملا اور جو بعد میں سرس“ لے جایا گیا۔(انسائیکلو پیڈیا) آف اسلام زیر لفظ تستر ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبرانی صحیفہ ایسے فرقے کی تحریر تھا جس نے نبی موعود کی پیشگوئی کی۔اور اس کی علامات خصوصاً جنگی فتوحات کی طرف اشارہ کیا جس کو پڑھ کر یہودی علماء نے اسلام قبول کر لیا۔اس کے بعد نویں صدی عیسوی میں ایک شامی اسقف اعظم نے ایک بزرگ کو لکھا کہ پر بچھو کے قریب جو بحیرہ مردار کے شمال مغرب میں واقع ہے، ایک عرب گڈریے نے ایک غار میں قدیم صحائف برتنوں میں بند دیکھے اور میروشلم کے یہودیوں سے اس کا ذکر کیا۔چنانچہ ان یہودیوں نے وہاں سے صحائف حاصل کئے جو عبرانی اور ایک قدیم رسم الخط میں تھے۔اور بائیبل کے علاوہ کئی دوسری تحریرات بھی ان میں شامل تھیں۔(The Dead Sea Scrolls by J۔M۔Allegro P۔166 یہاں پر قابل غور یہ بات ہے کہ جب غار سے صحائف ملے وہ ہر بیجو کے قریب تھی اور