صحائف وادئ قمران — Page 138
142 when they return to eat supper together and with any visiting strangers۔No noise or uproar is ever allowed to preface the house, for whoever speaks must do so in turn۔To outsiders, silence seems strange and mysterious to explain, but result of the fact that they are all given just enough food and drink to satisfy their needs, but no more۔" و, ترجمہ: وہ اس قدر پارسا ہیں کہ وہ کبھی سورج نکلنے سے پہلے دنیوی امور کا تذکرہ نہیں ، کرتے۔بلکہ بعض آباء واجداد کی دعائیں زیر اب پڑھتے ہیں۔گویا وہ اس سے طلوع ہونے کی التجا کر رہے ہوں اس کے بعد نگران ان کو منتشر کر دیتے ہیں۔اور ان کاموں پر لگا دیتے ہیں۔جن میں وہ ماہر ہیں۔یہاں وہ پانچویں گھنٹے تک (تقریباً 11:00 بجے صبح) محنت سے کام کرتے ہیں۔اور پھر دوبارہ اکٹھے ہوتے ہیں۔اور کستان کا چوغہ پہن لیتے ہیں اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے ہیں۔پاکیزگی کی اس رسم کے بعد وہ ایک مخصوص کمرے میں چلے جاتے ہیں۔جہاں اجنبی نہیں جاسکتے اور مکمل پاک ہو کر وہ اپنے کھانے کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔جیسے وہ ایک معبد ہو۔وہاں وہ خاموشی سے اپنی نشستوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔“ پھر نانبائی باری باری ہر ایک کے سامنے ایک ایک روٹی رکھ دیتا ہے۔اور باور چی ہر ایک کو ایک ہی قسم کے کھانے کی ایک پلیٹ دے دیتا ہے۔لیکن کھانے کو اس وقت تک کوئی نہیں چکھ سکتا جب تک ایک کا ہن دعائے شکرانہ نہ پڑھ لے۔ناشتہ کرنے کے بعد کا ہن دوباره شکر یہ ادا کرتا ہے۔کیونکہ وہ کھانے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی خدا کی تعریف کرتے ہیں۔جو کہ زندگی عطا کرنے والا ہے۔" اس کے بعد وہ اپنے مقدس سفید لباس کو اتار کر رکھ دیتے ہیں۔اور کام پر واپس چلے جاتے ہیں۔وہاں سے وہ شام کو واپس لوٹتے ہیں۔تاکہ مل کر اور اجنبی مسافروں کے The last years of Jesus Revealed۔P-31 1