صحائف وادئ قمران — Page 123
126 ہے۔چند مثالیں درج ذیل ہیں۔1 - متی 2/6 میں میکاہ 5/2 کا حوالہ دیا گیا ہے۔مگر عبارتوں میں نمایاں فرق ہے۔میکاہ کی عبارت درج ذیل ہے۔دو لیکن اے بیت لحم افرا تاہ! اگر چہ تو یہوداہ کے ہزاروں میں شامل ہونے کے لئے چھوٹا ہے۔تو بھی تجھ میں سے ایک شخص نکلے گا۔اور میرے حضور اسرائیل کا حاکم ہوگا۔اور اس کا مصدر زمانہ سابق ہاں قدیم الایام ہے۔“ اب ذرامتی کی عبارت ملاحظہ ہو۔”اے بیت لحم یہوداہ کے علاقے! تو یہوداہ کے حاکموں میں ہر گز سب سے چھوٹا نہیں۔کیونکہ تجھ میں سے ایک سردار نکلے گا۔جو میری امت اسرائیل کی گلہ بانی کرے گا۔“ اس فرق کو دیکھ کر گھبرایئے نہیں ذرا اور آگے آئیں۔2 متی 13/35 میں زبور 78/2 کا حوالہ دیا گیا ہے۔زبور کی عبارت درج ذیل ہے۔میں تمثیل میں کلام کرونگا۔اور قدیم معمے کہوں گا۔جن کو ہم نے سنا اور جان لیا“ اب متی کا کرشمہ دیکھئے کہ یہ عبارت یوں بدل گئی۔میں تمثیلوں میں اپنا منہ کھولوں گا۔میں ان باتوں کو ظاہر کروں گا جو بنائے عالم سے پوشیدہ رہی ہیں۔“ اوہو! الہامی کلام میں ایسی جرات!! لیکن متی کو کون سمجھائے ؟ ذرا اور آگے چلیں ! 3- متی 21/5 میں زکریا 9/9 کا حوالہ درج کر کے اس کے ساتھ یسعیاہ 62/11 کو ملا یا گیا ہے۔زکریا: ”اے بنت صیون تو نہائت شادمان ہو۔اے دختر یروشلم خوب للکار۔کیونکہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔وہ صادق ہے۔اور نجات اس کے ہاتھ میں ہے۔اور گدھے بلکہ جوان گدھے پر سوار ہے۔“ يسعياه: دختر صیون سے کہو دیکھ تیرا نجات دینے والا آتا ہے۔دیکھ اس کا اجر اس کے ساتھ اور اس کا کام اس کے سامنے ہے۔“