صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 124 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 124

127 متی میں جاکر یہ دونوں عبارتیں عجیب طریق پر چل کر ایک آمیزہ بناتی ہیں۔اور ایک نئی شکل ابھرتی ہے۔متی متون کی بیٹی سے کہو کہ دیکھ تیرا بادشاہ تیرے پاس آتا ہے۔وہ حلیم ہے اور 66 گدھے پر سوار ہے۔بلکہ لا دو کے بچے پر “ خدا جانے ”لا دو کے بچے پر والا ٹکٹر امتی نے کہاں سے لے لیا ہے۔نہ تو یہ زکریا میں ہے نہ یسعیاہ میں بالکل یہی طریق جو انا جیل میں نظر آتا ہے۔اہل قمران کے ہاں رائج تھا۔ایسے لگتا ہے۔جیسے انجیل نویس ایسینی کاہنوں کے شاگرد تھے۔جان انیگر و تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ: "۔۔۔and there is no hermeneutic principal of interpretation in the new testament which cannot be exactly matched in the Qumran literature۔" وو ترجمہ: ”نئے عہد نامے میں کوئی بھی ایسا اصول التفسیر نہیں ہے۔جس کی مثال بعینہ قمرانی لٹریچر سے نہ ملتی ہو۔“ محقق مذکور لکھتے ہیں کہ تفسیر حقوق کا مصنف اس فن کو استعمال کرتا ہے۔اس نے آئت 2/5 میں ایک عبرانی لفظ کے ہجے بدل دئے ہیں۔اور اصل عبرانی لفظ ”hyyn“ کو hwn“ لکھ دیا ہے۔اس طرح اس نے معمولی تصرف کر کے معنوں میں عظیم تبدیلی پیدا کردی ہے۔کیونکہ اصل لفظ کا ترجمہ شراب یا مئے ہے۔اور تبدیل شدہ لفظ کا ترجمہ دولت ہے۔یہ تبدیلی اس لئے کی گئی کہ دولت کا مفہوم پیدا کر کے مصنف اخوت ایسین کے فقر اور بد کار کا ہن کی امارت اور لالچ کا موازنہ کرنا چاہتا تھا۔ہے یوحنا کی انجیل :- اگر چہ تمام مسیحی تعلیمات اور رسوم اور عبادات جو نئے عہد نامے میں بیان ہیں۔ایسینی فرقے کی تعلیمات وغیرہ سے ماخوذ ہیں۔اور عہد نامے کی کوئی بھی کتاب ایسی نہیں جس میں ایسینی نظریات و محاورات جابجا پائے نہ جاتے ہوں تاہم یوجنا کی The Dead sea scrolls۔P-153 1۔1