صحائف وادئ قمران — Page 114
117 کرتی۔اس لئے بہت سے عیسائیوں نے اس پر اعتراض کیا چنانچہ کلیسیا میں اس مسئلہ پر صدیوں بحث کا سلسلہ چلتا رہا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسیح کو بیک وقت خدا بھی قرار دیا گیا اور انسان بھی۔اس پر اکثر عیسائی اس عقیدے کے قائل ہو گئے مگر ایک گروہ نے اس کا انکار کر دیا۔موحد عیسائیوں کا یہ فرقہ آج تک چلا آتا ہے۔فرانس پاٹر اس بحث و اختلاف کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں: "Then for centuries christions debated how and to what degree jesus partook the nature of God۔And how much of him if any was man۔They not only debated۔They even killed one another over this question of weather the prince of peace was God or man۔finally, the creed makers decided that Jesus was both God and man۔" (The Last Years of Jesus Revealed P۔123) ترجمہ: پھر صدیوں تک مسیحی اس امر پر مناظرہ کرتے رہے کہ مسیح نے کیسے اور کس حد تک خدائی سے حصہ پایا ہے۔اور اگر کوئی انسانی حصہ ہے تو کس حد تک۔نہ صرف مناظرہ کرتے رہے بلکہ اس سوال پر کہ امن کا شہزادہ خدا تھا یا انسان انہوں نے ایک دوسرے کی گردنیں اڑائیں۔بالآخر عقیدہ گھڑنے والوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یسوع خدا بھی تھا اور انسان بھی۔الوہیت مسیح کا یہ عقیدہ گھڑ لیا تھا۔اور مسیحیوں کی اکثریت نے اسے تعلیم بھی کر لیا۔مگر اب صحائف نے اس کا بطلان ثابت کر دیا ہے۔اس کے باوجود مسیحی علماء ضد کر رہے ہیں کہ اسے ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔فرانس پاٹر کہتے ہیں۔کہ موحد مسیحیوں کو تو واقعی اپنے عقائد میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔باقی مسیحی اب اس بیہودہ عقیدے پر قائم نہیں رہ سکتے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔"Nor there is any thing in all the hundreds of cave manuscripts۔Enoch and all the rest, to