صحائف وادئ قمران — Page 107
110 دستور العمل سے ظاہر ہے کہ ایسین مجالس میں بیٹھنے کی ترتیب اہمیت کے مطابق ہوتی اور یہی حال مجالس میں گفتگو کا ہوتا تھا عہدے کے مطابق باری باری بات کرنے کا موقعہ مل سکتا تھا۔عیسائی عشائے ربانی میں ترتیب کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔لوقا 22/24 میں لکھا ہے۔” اور ان میں یہ تکرار بھی ہوئی کہ ہم میں سے کون بڑا سمجھا جاتا ہے" اس سے بھی ہے۔”اور زیادہ یوحنا 25-13/21 میں یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے۔یہ باتیں کہہ کر یسوع اپنے دل میں گھبرایا اور یہ گواہی دی کہ میں تم سے بچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک شخص مجھے پکڑوائے گا۔شاگردشبہ کر کے کہ وہ کس کی نسبت کہتا ہے۔ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اسکے شاگردوں میں سے ایک شخص جس سے یسوع محبت رکھتا تھا یسوع کے سینہ کی طرف جھکا ہوا کھانا کھانے بیٹھا تھا پس شمعون پطرس نے اس سے اشارہ کر کے کہا کہ بتا تو وہ کس کی نسبت کہتا ہے اسی طرح یسوع کی چھاتی کا سہارا لے کر کہا۔”اے خداوند وہ کون ہے“ اس سے بڑی وضاحت سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ کھانے پر بیٹھنے میں کس حد تک ترتیب کا خیال رکھا جاتا تھا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسی مجالس میں گفتگو کا طریق کیا تھا۔یسوع کی بات سے سب شاگردوں کو شبہ ہوا مگر وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہی رہے کوئی بھی بول نہ سکا۔بالآخر پطرس نے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا کیونکہ وہ اپنی باری کے مطابق بول نہیں سکتا تھا۔تب اس کے ساتھی نے جس کی باری تھی مسیح سے دریافت کیا اس سے صاف ظاہر ہے کہ ایسینی نمائدہ صحیح اور عیسائی عشائے ربانی بالکل ایک ہی چیز کے دو الگ الگ نام ہیں ان کی تمام تفصیلات میں انتہائی مطابقت ہے۔یوحنا کی انجیل اور پہلے مخط میں نور اور تاریکی حق اور باطل کا موازنہ کیا گیا ہے جو صحائف قمران کا طرہ امتیاز ہے صحیفہ جنگ میں ابنائے نور اور ابنائے ظلمت کے درمیان ایک عظیم معرکے کا ذکر بڑی تفصیل سے درج ہے۔جماعت قمران اور ابتدائی مسیحی دونوں اپنے آپ کو عہد نامہ جدید کے حامل قرار دیتے ہیں۔