صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 142 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 142

146 2 سلاطین میں بھی ملتا ہے۔صحیفہ دمشق جو صحائف قمران کا حصہ ہے اسمیں اس حوالہ کا پایا جانا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جماعت قمران میں صحائف کو محفوظ کرنے کی تعلیمات کو اہمیت حاصل تھی۔اور جماعت اس پر پوری طرح عمل پیرا تھی۔اراکین قمران ایک اعلی نظام کے تابع تھے۔وہ مختلف گروہوں میں تقسیم تھے۔دستور العمل اور صحیفہ دمشق میں ہزاروں ، سینکڑوں ، پچاس پچاس اور دس دس افراد کے گروہوں کا ذکر ملتا ہے۔اخوت قمران اپنے آپکو دوسرے عام یہودیوں سے بالکل الگ اور ممتاز سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو حقیقی اور بچے اسرائیلی کہتے تھے۔صحیفہ دمشق میں بڑی وضاحت سے ذکر ہے کہ جماعت کے چھوٹے چھوٹے گروہ مختلف گروپ مختلف شہروں میں آباد تھے۔ان کے لئے بھی قوانین دئے گئے ہیں۔ہر چھوٹے گروپ کا سر براہ ایک کا ہن ہوتا تھا۔ان گروہوں کے قیام کا مقصد دنیا میں وفاداری کا قیام اور عداوتوں کا خاتمہ تھا۔کا ہن ہی اجتماعی دعوتوں پر برکات پڑھتا تھا۔کسی نئے ممبر کے عہد نامے میں داخلے کے وقت بھی جو دعوت ہوتی اس میں یہ کام کا ہن ہی سرانجام دیتا۔ابنائے ظلمت کے خلاف جنگ میں بھی کا ہن کا کردار بہت اہم ہے۔دستور العمل اور صحیفہ دمشق ایک دوسرے افسر کا بھی ذکر کرتے ہیں، جس کو سپرنٹنڈنٹ کہا جا سکتا ہے۔عدلیہ کے فیصلوں کے لئے جوں کا ذکر بھی صحیفہ دمشق میں ہے۔اس میں ایسے ارکان جماعت کا ذکر بھی ہے جو شادی کرتے تھے۔اور گھریلو زندگی گزارتے تھے۔عورتوں اور بچوں کا ذکر بھی کئی بار آیا ہے۔دستور العمل میں اشتراک اموال کا ذکر ہے۔جماعت میں داخلے کے لئے ہر رکن سے ایک سخت قسم کی جاتی تھی۔اور باقاعدہ داخلے کے لئے ایک ایک سال کے دو مراحل میں سے گزرنا ضروری تھا۔داخلہ کے بعد ہر رکن کو ایک مقررہ درجہ دیا جاتا تھا۔مجالس میں حاضری ضروری خیال کی جاتی تھی۔مجالس میں بیٹھنے کے لئے عہدوں کے مطابق ترتیب ضروری تھی۔