دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 7 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 7

7 انہوں نے اُس سے پوچھا کہ کون دوست؟ اس نے کہا تمہارا دوست محمد حضرت ابو بکر نے پوچھا کیا ہوا؟ وہ لونڈی کہنے لگی وہ کہتا ہے میرے ساتھ فرشتے باتیں کرتے ہیں حضرت ابو بکر اس وقت لیٹنے ہی لگے تھے کہ یہ بات سُن کر آپ نے چادر سنبھالی اور دوست سے کہا میں اب چلتا ہوں اُس نے کہا ذرا ٹھہرمیں سخت گرمی کا وقت ہے آپ کو اس وقت جانے سے تکلیف ہوگی انہوں نے کہا نہیں اب میں ٹھہر نہیں سکتا چنانچہ وہ سیدھے حضرت رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا حضرت رسول کریم علیے آپ کی آواز سن کر تشریف لائے اور دروازہ کھولا روازہ کھلتے ہی حضرت ابو بکڑ نے کہا میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں آپ بتائیں کہ کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ خدا کے فرشتے آپ پر نازل ہوتے ہیں اور وہ آپ سے باتیں کرتے ہیں؟ حضرت رسول کریم ﷺ نے یہ خیال فرماتے ہوئے کہ یہ میرے دوست ہیں اور ان سے میرے پرانے تعلقات چلے آرہے ہیں ایسانہ ہو کہ ٹھو کر کھا جائیں مناسب سمجھا کہ پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو کچھ سمجھا لیں چنانچہ آپ نے فرمایا ابوبکر پہلے میری بات سن لو بات یہ ہے کہ حضرت ابو بکر نے اُسی وقت آپ کے سلسلہ کلام کو منقطع کرتے ہوئے کہا میں آپ سے کوئی بات نہیں پوچھتا آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے کہا ہے کہ فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں؟ حضرت رسول کریم علیہ نے جواب دینے سے پہلے پھر فرمایا ابو بکر بات تو سن لو آپ نے خیال فرمایا کہ اگر میکدم میں نے کچھ جواب دیا تو ممکن ہے یہ ٹھوکر کھا جائیں تمہید ان