دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 6
6 ابن ہشام کہتے ہیں مجھے ایک معتبر شخص سے روایت پہنچی کہ جبرئیل حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا خدیجہ کو اُن کے پروردگار کی طرف سے سلام دیجئے چنانچہ حضور نے فرمایا اے خدیجہ ! جبرئیل خدا کی طرف سے تمہیں سلام کہتے ہیں خدیجہ نے کہا اللہ سلام ہے اُس سے سلام ہے اور جبرئیل پر بھی سلام ہو (ابن ہشام جلد اول (اردو) صفحه ۱۶۰) یہ پہلا گھرانا تھا جو اسلام کے نور سے منور ہوا۔یہیں سے اللہ تعالیٰ کا پیغام پھیلنا شروع ہوا۔حضرت خدیجہ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ پہلی مسلمان عورت ہیں جنہوں نے تبلیغ اسلام کا کام کیا۔وہ مکہ والوں کو خصوصا عورتوں میں اللہ تعالی کی وحدانیت اور حضرت محمد رسول اللہ عن اللہ کی رسالت کا پیغام دیتیں۔ایک مدبر اور معتبر خاتون کے اسلام کی طرف بلانے کا بہت اچھا اثر حنا الله ہوتا۔اب دیکھتے ہیں کہ اپنے رسول میلے کا ساتھ دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مردوں میں سے سب سے پہلے کے منتخب فرمایا۔جس دن حضرت رسول کریم ﷺ نے دعوی فرمایا حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ملہ میں نہیں تھے۔بلکہ مکہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے واپس آئے تو چونکہ سخت گرمی کا موسم تھا ایک دوست کے ہاں دوپہر کے وقت کچھ ستانے کے لئے ٹھہر گئے۔ابھی لیٹے نہیں تھے کہ اُن کے دوست کی لونڈی سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ کہنے لگی ہائے ہائے بیچارہ اس کا دوست تو پاگل ہو گیا ہے حضرت ابو بکر نے ادھر ادھر دیکھا اور سمجھا کہ یہ الفاظ شاید میرے متعلق ہی کہے گئے ہیں چنانچہ