دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 35
35 تھے اور حضرت رسول پاک میلہ بھی انہیں صرف صبر کی تاکید فرماتے اور صبر کے نتیجے میں اللہ تعالی کی خوشنودی کی خوشخبری سناتے۔یہ خوشخبری پا کر کوئی دکھ دکھ نہ رہتا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے مظالم برداشت کئے مگر توحید سے منہ نہ موڑا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ تھے خوشحال تھے مکہ کے لوگوں میں مقبول بھی تھے مگر اللہ تعالیٰ کا نام لینا اتنا بڑا جرم تھا کہ اُن کے چا حکم بن ابی العاص نے انہیں رسیوں سے باندھ کر مارا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ کہا اپنے اللہ کو طبقات ابن سعد حالات عثمان بن عفان ) یاد کرتے رہے۔حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کو ان کا ظالم چا چٹائی میں باندھ کر آگ کا دھواں دیا کرتا۔(زرقانی جلد اول باب اول من اسلم ) قبیلہ ہذیل کے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مسحن کعبہ میں مار مار کر ہلکان کر دیا۔حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کو مارتے مارتے ادھ موا کر دیا۔(اسد الغابه ) ( بخاری کتاب قصه اسلام ابی ذر ) ایک دفعہ حضرت رسول کریم ﷺ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اتنے زور سے بھینچا کہ آنکھیں باہر آنے لگیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا تو آکر چھڑایا۔اس پر ظالموں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اتنا مارا کہ گھر آئے تو سر کے بالوں کو جہاں ہاتھ لگاتے بال ہاتھ میں آجاتے۔ابن ہشام جلد اول صفحه ۲۵۱) حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ لوہار تھے مکہ کے ظالم ان کی بھٹی میں سے جلتے ہوئے کو مکلے نکال کر انہیں پشت کے بل اُن پر لٹا دیتے بار بار اسی طرح تکلیف دینے سے کبر کی کھال جل کر سیاہ ہو گئی اور بار بار جلنے سے موٹی ہو گئی۔حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ایک دفعہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ ہمارے لئے خدا سے مدد کیوں طلب نہیں فرماتے ؟ حضور لیٹے ہوئے تھے اُٹھ کر بیٹھ گئے چہرہ مبارک سرخ ہو گیا۔آپ نے فرمایا