دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 36
36 تم سے پہلے لوگوں کے سروں پر آرے رکھ کر انہیں چیر دیا گیا۔لوہے کی کنگھیوں سے اُن کے بدن سے گوشت نو چا گیا لیکن یہ تکلیفیں انہیں دین کے راستے سے نہ ہٹا سکیں۔پھر فرمایا خدا کی قسم اللہ اس دین کو غالب کرے گا۔اپنی منشا پوری کر کے رہے گا اور ایسا وقت آئے گا کہ مسافرا کیلا سفر کرے گا اور سوائے خدا کے اُسے کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔( بخاری باب مالقی النبی و اصحاب من المشركين بمكة ) جن بے چارے مسلمانوں کی ظاہری حیثیت کم تھی اُن پر تو مصائب کے پہاڑ توڑ دیے گئے حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ ایک حبشی غلام تھے اُن کا آقا امیہ بن خلف ظلم توڑنے میں بڑا ماہر تھا مکہ کی تپتی ریت پر شدید گرمی میں نگا لٹا کر او پر بڑے بڑے پتھر رکھ دیتا اور بلال سے اصرار کرتا کہ اپنے خدا کا انکار کرو تو اس عذاب سے نجات پاؤ گے مگر بلال کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلتا احد احد اللہ تعالی ایک ہے مکہ کے لڑکے انہیں پتھر لے گلی کوچوں میں گھسیٹتے پھرتے سارا بدن لہولہان ہو جا تا مگر آپ صرف احد احد کہتے۔اسی طرح ابو فکیہ رضی اللہ عنہ، عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ، صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ اور خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی تکلیفیں سُن کر آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالی کا جو چہرہ آنحضرت نے نے اُن کو دکھایا تھا اتنا حسین تھا کہ کسی دوسری طرف دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ظالموں نے صرف مردوں پر ستم نہیں ڈھائے بلکہ خواتین کو بھی شدید از سینتیں دیں حضرت زنیرہ رضی اللہ عنہا کو ابو جہل نے اتنا مارا کہ آنکھیں ضائع ہو گئیں حضرت لبینہ رضی اللہ عنہا کو ( حضرت ) عمر بن الخطاب ( اسلام لانے سے پہلے ) بہت زور زور سے مارتے جب تھک جاتے تو سانس لینے کو ڑ کتے اور پھر مارتے مگر وہ قومی تنومند آدمی اپنی مار سے ایک لونڈی کو خدا کا نام لینے سے باز نہ رکھ سکا۔ظالموں نے ہمارے پیارے آقا پر بھی جسمانی تشددت دریغ نہ کیا بلکہ کئی طرح ایزادی ایک دفعہ خانہ کعبہ میں کفار نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اتنا ھونا کہ آپ کی