دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 5 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 5

5 دعوت الی اللہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے غارحرا کی تنہائیوں میں ذاتی دکھوں پر آنسو نہیں بہائے تھے بلکہ آپ کو یہ تڑپ تھی کہ کسی طرح انسان شیطان کے پنجوں سے آزاد ہو کر خدائے رحمن کے بندے بن جائیں۔آپ کو شدید تمنا تھی کہ مسکین، یتیم بے کس لا چار کمزور بیوائیں، غلام سارا محروم طبقہ انسانوں کے ظلموں سے چھٹکارا پا کر خدائے رحیم کی رحمت کے سائے میں آجائے۔آپ کو گن تھی کہ جھوٹے خداؤں کی بجائے معبود حقیقی کی عبادت ہو۔لوگ اُس قادر و مقتدرہستی کو جانیں اور مائیں جس کا حسن آپ پر جلوہ گر ہوا تھا۔یہ بیچی تمنا دل کی پکار خدا تعالیٰ کی رحمت کو کھینچ لائی اور آپ کو وہ نسخہ کیمیا عطا ہوا جس سے کل انسانوں کی قیامت تک ہر طرح کی اصلاح ہو سکتی ہے آپ پر قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ”اے چادر میں لیٹے ہوئے شخص اُٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو خدا کے نام پر بیدار کر چادر میں لپٹا ہوا کمزور شخص کانپ گیا۔بہت بڑی ذمہ داری تھی مگر پیارے خدا کی دستگیری پر ایمان تھا اپنے رب کے حکم پر سر جھکا دیا اس طرح آپ پہلے اسلام لانے والے یعنی اول المسلمین ٹھہرے۔لوگوں کو خدا کے نام پر بیدار کرنے کا کام آپ نے اپنے گھر سے شروع کیا۔اپنی زندگی کے ساتھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو وحدانیت کی تعلیم دی۔ان کے لئے یہ پیغام اجنبی نہ تھا میاں بیوی میں دینی اور قلبی ہم آہنگی تھی آپ تو کبھی کبھار غار حرا بھی جایا کرتی تھیں۔اچھی طرح جانتی تھیں کہ تلاش حق کے مسافر کو منزل مل گئی ہے۔ایک لمحے کے تردد کے بغیر کوئی ثبوت یا معجزہ طلب کئے بغیر آپ کی نبوت کی صداقت کی تصدیق فرمائی اس طرح پہلی مسلمان عورت ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔اللہ تعالیٰ اُن کی سعادت سے خوش ہوا اور اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔