دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 37 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 37

37 آنکھیں سرخ ہو کر باہر نکل پڑیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سنا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور حضرت رسول کریم ﷺ کو اس تکلیف کی حالت میں دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے کفار کو بناتے ہوئے کہا خدا کا خوف کرو کیا تم ایک شخص پر اس لئے ظلم کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے خدا میرا رب ہے۔ایک دفعہ حضرت رسول کریم ع نے مکہ میں ایک چٹان پر بیٹھے کچھ گہری فکر میں تھے کہ اچانک ابو جہل آنکلا اور اُس نے آتے ہی آپ کو تھپڑ مارا اور پھر گندی سے گندی گالیاں آپ کو دینی شروع کر دیں۔آپ نے تھپڑ بھی کھالیا اور گالیاں بھی سنتے رہے مگر آپ نے زبان سے ایک لفظ تک نہیں کہا جب وہ گالیاں دے کر چلا گیا تو آپ خاموشی سے اُٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی لونڈی اپنے گھر سے دروازہ میں کھڑی یہ نظارہ دیکھ رہی تھی۔حمزہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔لونڈی نے سارا واقعہ سنایا ایک عورت اور وہ بھی خادمہ کی زبان سے یہ بات سُن کر حمزہ کی غیرت جوش میں آئی اور خانہ کعبہ کی طرف چل پڑے اور اپنی کمان ابو جہل کے منہ پر مار کر اسے سختی سے ڈانٹا۔ایک دفعہ آپ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے جب آپ سجدہ میں گئے تو بعض شریروں نے آپ کی پیٹھ پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر رکھ دی اور چونکہ وہ بھاری تھی آپ سجدہ سے سرنہ اُٹھا سکے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کا علم ہوا تو وہ روتی ہوئی آئیں اور انہوں نے آپ کی پیٹھ پر سے اوجھڑی ہٹائی"۔( بخاری ابواب الوضو ) ایک دفعہ آپ بازار سے گزر رہے تھے کہ مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کے گرد ہو گئی اور رستہ بھر آپ کی گردن پر یہ کہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے میں نبی ہوں۔