دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 33 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 33

33 حضور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ مسیح کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ بادشاہ نے یک طرفہ بات سن کر فیصلہ کرنے سے بہتر سمجھا کہ مسلمانوں سے وضاحت کرلی جائے۔چنانچہ اس نے مسلمانوں کو بلا بھیجا۔بادشاہ کے ہاں سے بلاوے نے مسلمانوں کو کچھ فکر میں ڈال دیا کیونکہ وہ تو حضرت عیسی علیہ السلام کو عام بشر مانتے تھے خدا کا بیٹا نہیں مانتے تھے۔مگر مسلمانوں نے فیصلہ کیا کہ عقیدہ سچ سچ بتائیں گے ڈرنا صرف خدا تعالیٰ سے چاہیئے اُس پر تو گل کرنا چاہیئے۔چنانچہ اگلے دن دربار میں پیش ہوئے تو حضرت جعفر بن طیار نے بڑے اعتماد سے اپنا عقیدہ پیش کیا۔اے بادشاہ! ہمارے اعتقاد کی رُو سے حضرت مسیح علیہ السلام اللہ کا ایک بندہ ہے خدا نہیں ہے مگر وہ اُس کا ایک بہت مقرب رسول ہے اور اُس کے اُس کلام سے عالم ہستی میں آیا ہے جو اُس نے مریم پر ڈالا۔نجاشی نے فرش سے تنکا اٹھایا اور کہا داللہ جو تم نے بیان کیا ہے میں اُس سے حضرت مسیح علیہ السلام کو اس تنکے کے برابر زیادہ نہیں سمجھتا۔نجاشی کے اس جواب سے عیسائی پادری بہت برہم ہوئے۔مگر بادشاہ نے اُن کی برہمی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کیا جب میرا باپ مرا تھا میں بچہ رہ گیا تھا تم لوگوں نے میرے چچا کے ساتھ مل کر چاہا کہ اس حکومت پر قبضہ کر لو تب خدا نے اپنے فضل سے مجھے طاقت بخشی اور اُس نے تم کو شکست دبے کر مجھے اس تخت پر بٹھایا جس خدا نے مجھے اس بے کسی کی حالت میں بادشاہ کے تخت پر بٹھا دیا اور میرے دشمن کو ناکام و نامراد کیا اُس خدا کی نصرت پر مجھے آج بھی یقین ہے اور آج جب اُس نے مجھے طاقت بخشی ہے میں یہ بے شرمی نہیں کر سکتا کہ اُس کے مظلوم بندوں کی مدد نہ کروں اگر تم سارے اسے برا مانو تب بھی میں اُن کو یہاں سے نہیں نکالوں گا۔تاریخ الخمیس جلد اول - تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحه ۴۷۴۶)