دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 32
32 بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہائی حد کو پہنچ چکا ہوں۔(الہام لانے والے فرشتہ نے ) کہا ( جس طرح تو کہتا ہے واقعہ ) اسی طرح ہے (مگر) تیرا رب کہتا ہے کہ یہ (بات) مجھ پر آسان ہے اور ( دیکھ کہ ) میں تجھے اس سے پہلے پیدا کر چکا ہوں حالانکہ تو کچھ بھی نہیں تھا۔( زکریا نے ) کہا، اے میرے رب ! میرے لئے کوئی حکم بخش فرمایا۔تیرے لئے یہ حکم ہے کہ تو لوگوں سے تین راتیں متواتر کلام نہ کر۔اس کے بعد ( زکریا ) محراب سے نکل کر اپنی قوم کے پاس گئے اور انہیں آہستہ آواز میں کہا کہ صبح اور شام خدا کی تسبیح کرتے رہو۔(اس کے بعد یکی پیدا ہو گیا اور ہم نے اسے کہا ) اے بیچی ! تو (الہی) کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لے اور ہم نے اُسے چھوٹی عمر میں ہی (اپنے) حکم سے نوازا تھا ( اور یہ بات ) ہماری طرف سے بطور مہربانی اور شفقت کے تھی (اور اسے پاک کرنے کے لئے (تھی) اور وہ بڑا متقی تھا اور اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا تھا اور ظالم اور نا فرمان نہیں تھا اور جب وہ پیدا ہوا تب بھی اُس پر سلامتی تھی اور جب وہ مرے گا اور جب وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا تب بھی اُس پر سلامتی ہوگی۔( ترجمه از تفسیر صغیر صفحه ۳۰۲ ۳۰۳۰) حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اتنے درد سے پُر سوز آواز میں ان آیات کی تلاوت کی کہ نجاشی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔وہ صرف آواز کی تاثیر سے نہیں پگھلا تھا بلکہ آیات مذکورہ میں بیان مضمون سے اسلامی عقائد اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اسلامی نظریے سے بھی متاثر ہوا۔بادشاہ نے کہا خدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی منبع نور کی کر نہیں معلوم ہوتی ہیں“۔( سيرة خاتم النبین صفحه ۱۵۴) بادشاہ نے قریش کے تحائف اُن کو واپس کر دئے اور مسلمانوں کو اُن کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔وفد اپنا سا منہ لے کر واپس تو آ گیا مگر ہمت نہیں ہاری اگلے دن پھر دربار میں پہنچ گئے اس مرتبہ عمرو بن العاص نے بادشاہ کے سامنے یوں بات بنائی۔