دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 22 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 22

22 کی برداشت سے باہر ہو گئی اور وہ اکٹھے ہو کر حضرت رسول کریم ماہ کے چچا ابو طالب کے پاس گئے اور اُن سے کہا کہ ہم نے آپ کی خاطر آپ کے بھتیجے کو کچھ نہیں کہا مگر اب معاملہ حد سے نکل چکا ہے اور یہ ہمارے بتوں کی تذلیل کر رہا ہے۔اس لئے آپ یا تو اسے سمجھا ئیں اور اس طریق سے اُسے باز رکھنے کی کوشش کریں ورنہ ہم صرف اس کا نہیں بلکہ آپ کا بھی مقابلہ کریں گے اور آپ کو اپنی قوم کی سرداری سے الگ کر دیں گے۔ابو طالب کے لئے اپنی ریاست چھوڑ نا ایک نہایت تلخ گھونٹ تھا اُنہوں نے سردارانِ قریش سے وعدہ کر لیا کہ میں اپنے بھتیجے کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔چنانچہ اُن کے چلے جانے کے بعد ابو طالب نے حضرت رسول کریم علی کو بلوایا اور آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے! اب تیری قوم تیرے خلاف سخت مشتعل ہو چکی ہے اور قریب ہے کہ وہ تجھے بھی اور ساتھ ہی مجھے بھی ہلاک کر دیں۔میں تجھے خیر خواہی اور ہمدردی سے کہتا ہوں کہ تو بتوں کو برا بھلا نہ کہہ۔ورنہ میں اپنی ساری قوم سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔جب ابو طالب نے یہ بات کہی تو اُس وقت اُن کی آنکھوں سے۔آنسو جاری تھے۔انہیں غمزدہ دیکھ کر حضرت رسول کریم ع کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔مگر آپ نے فرمایا خدا کی قسم اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر بھی کھڑا کر دیں تب بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑ سکتا جس کے لئے خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور اے میرے بچا اگر آپ کو اپنی کمزوری اور