دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 19 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 19

19 لگے ہیں۔مکہ والوں نے سارا زور لگا دیا کہ کوئی آپ کی بات نہ سنے اور اگر سن لے تو مانے نہیں اور اگر مان لے تو اُس کو ایسی سزا دی جائے کہ یا تو وہ توبہ کر لے یا جان سے مار دیا جائے تاکہ دوسروں کو خوف آئے اور وہ محمد کی باتیں قبول نہ کریں۔مذہب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے شدید مخالفت کی جاتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کے بندے اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہتے ہیں۔آپ اور آپ کے ساتھی بھی ہر حال میں مکہ والوں کو دعوت الی اللہ دیتے آپ انہیں سمجھاتے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا خدا ایک ہے اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔جس قدر نبی گزرے ہیں سب ہی توحید کا اقرار کیا کرتے تھے اور اپنے ہم قوموں کو بھی اسی تعلیم کی طرف بلایا کرتے تھے۔تم خدائے واحد پر ایمان لاؤ۔ان پتھروں کے بتوں کو چھوڑ دو کہ یہ بالکل بے کار ہیں اور ان میں کوئی طاقت نہیں۔اے مکہ والو! کیا تم دیکھتے نہیں کہ اُن کے سامنے جوند رو نیاز رکھی جاتی ہے اگر اُس پر مکھیوں کا جھرمٹ آبیٹھے تو وہ ان مکھیوں کو اڑانے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔اگر کوئی اُن پر حملہ کرے تو وہ اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔اگر کوئی ان سے سوال کرے تو وہ جواب نہیں دے سکتے۔اگر کوئی اُن سے مدد مانگے تو وہ اس کی مدد نہیں کر سکتے مگر خدائے واحد تو مانگنے والوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو زیر کرتا ہے اور اپنے عبادت گزار بندوں کو اعلیٰ ترقیات بخشتا ہے۔اُس سے روشنی آتی ہے جو اس کے پرستاروں کے دلوں کو منور کر دیتی ہے۔پھر تم کیوں ایسے خدا کو چھوڑ کر بے جان بتوں کے آگے جھکتے ہو اور اپنی عمر ضائع کر رہے ہو۔تم دیکھتے نہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو چھوڑ کر تمہارے خیالات بھی گندے اور دل بھی تاریک ہو گئے ہیں۔تم قسم قسم کی وہ بھی تعلیمات میں مبتلا ہو حلال و حرام کی تم میں تمیز