دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 18
18 یاسر کا گھرانا تھا۔حضرت عمار ان دنوں ایمان لائے جب آپ دار ارقم میں مقیم تھے اسلام کے پیغام نے متاثر کیا دل چاہا کہ خود آنحضور ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنیں دار ارقم کی طرف چلے راستے میں حضرت صہیب بن سنان سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں علم ہوا کہ دونوں کو ایک ہی محبوب کی کشش کھینچ لائی ہے دونوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کیا۔اس طرح ابتدائی سات مسلمانوں میں شمار ہوئے۔حضرت عمار کی والدہ کا نام حضرت سمیہ تھا اور والد کا نام حضرت یا سر اس خاندان پر کفار نے بے انتہا مظالم ڈھائے۔خدا کی راہ میں انہیں سخت تکلیف پہنچائی گئی۔(اسد الغابه الجزء الرابع صفحه ۴۴) حضرت سمیہ کی تو ظالموں نے جان لے لی اس طرح پہلی شہید مسلمان عورت کا اعزاز حاصل ہوا۔حضرت عمار کو دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دیتے پھر پانی میں ڈبکیاں دیتے۔گرم ریت پر لٹا کر مار مار کر ادھ موا کر دیتے کھانے پینے کو بھی نہ دیتے۔آپ سے یہ دکھ دیکھے نہ جاتے۔فرماتے آل یا سر صبر کرو میں تم سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے آنحضرت علی سے خود سنا ہے فرماتے ہیں کہ سر سے لے کر پاؤں کے تلووں تک عمارا ایمان سے بھرا ہوا ہے" (استیعاب) حضرت انس رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت مشتاق ہے علی، عمار، سلمان اور بلال کی۔مکہ کے مشرکین کے لئے حضرت رسول کریم ﷺ کی باتیں اجنبی تھیں۔وہ آپ کو اپنے دین میں رخنہ اندازی کرنے کا الزام دیتے تھے۔وہ سمجھتے کہ چونکہ محمد بتوں کو برا بھلا کہتے ہیں اس لئے وہ آپ سے ناراض ہو گئے ہیں اور اس ناراضگی کی وجہ سے یہ سزا دی ہے کہ آپ کا دماغ ( نعوذ باللہ ) خراب ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں غلط سلط بے تکی خلاف عقل باتیں کرنے