دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 17
17 سال کا دبلا پتلا بچہ جس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔اٹھا اور یوں گویا ہوا گو میں سب سے کمزور ہوں اور سب سے چھوٹا ہوں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔یہ حضرت علی کی آواز تھی آنحضرت ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ سنے تو اپنے رشتہ داروں کی طرف دیکھ کر فرمایا اگر تم جانو تو اپنے بچے کی بات سنو اور اسے مانو حاضرین نے یہ نظارہ دیکھا تو بجائے عبرت حاصل کرنے کے سب کھلکھلا کر ہنس پڑے اور ابو لہب اپنے بڑے بھائی ابو طالب سے کہنے لگا ”لواب محمد تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی پیروی اختیار کرو پھر یہ لوگ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی کمزوری پر ہنسی اڑاتے ہوئے رخصت ہو گئے۔(طبری، بحوالہ سیرت خاتم النبیین صفحه ۱۲۸ تا ۱۲۹) مکہ کے شریر لوگوں نے سوچا کہ کسی نہ کسی طریق سے اس نئے دین کا راستہ روکنا چاہئے وہ اپنے منصوبے بناتے رہے مگر مکہ کے بعض شریف لوگ اس نئے دین کے متعلق معلومات لینے کے لئے آپ سے ملاقات کرنے کے لئے آنے لگے لوگوں کو آپ کے پاس آتا جاتا دیکھ کر تنگ کرنے والے طرح طرح سے ستاتے اس طرح آپ کے کام میں رکاوٹ آجاتی آپ نے تبلیغ کرنے کے لئے اور نئے مسلمان ہونے والوں کی تربیت کرنے کے لئے ایک گھر کو مرکزی حیثیت دی یہ خوش قسمت گھر ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کی ملکیت تھا۔جو دار ارقم کہلاتا تھا بعد میں اسے دار السلام بھی کہا جانے لگا دار ارقم کوہ صفا کے بائیں جانب ۳۵ سے ۴۰ میٹر کے فاصلے نپر واقع تھا اس میں پتھر کے بنے ہوئے دو مجرے تھے۔یہ مسلمانوں کا پہلا اسکول، پہلا دارالتبلیغ اور پہلی عبادت گاہ تھا۔تین سال تک یعنی نبوت کے چوتھے سال سے چھٹے سال تک یہی مسلمانوں کا مرکز رہا۔تبلیغ کا انداز ابھی بھی حکیمانہ خاموشی کا تھا بہر حال نئے مسلمان ہونے والے اور اسلام کے لئے دکھ دیے جانے والے یہیں اکٹھے ہوتے۔آنحضرت عﷺ پر ابتدائی ایمان لانے والے گھرانوں میں سے ایک حضرت عمار بن