دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 15
15 اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کا فرض عائد ہوئے تین سال گزر چکے تھے آپ خاموشی اور حکمت سے پیغام حق دے رہے تھے کیونکہ خدا تعالی کا یہی محکم تھا۔پھر خدا تعالیٰ نے اعلانیہ تبلیغ کا حکم دیا۔چوتھا سال شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ (سوره حجر : ۹۵) اے رسول تجھے جو حکم دیا گیا ہے وہ کھول کھول کر لوگوں کو پہنچا دے پھر اس کے قریب ہی یہ آیت نازل ہوئی وَانْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (سوره شعراء : (۲۱۵) اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہشیار اور بیدار کر۔آپ نے اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے ایک دن کوہ صفا پر چڑھ کر مختلف قبیلوں کو نام لے کر بلایا۔آل غالب، قبیلہ توی ، آلِ مرہ، آپ کلاب اور آل قصئی کے لوگ جمع ہوئے ان میں ابولہب بھی تھا۔آپ نے بات شروع فرمائی تم میرے رشتہ دار ہو۔مجھے دیر سے جانتے ہو میری عادات سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہو تم یہ بتاؤ کہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ہے؟ اُن سب نے متفقہ طور پر کہا ہر گز نہیں آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں“ تو آپ نے فرمایا اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اس چھوٹی سی پہاڑی کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر تم پر حملہ کرنے کے لئے چھپ کر بیٹھا ہے تو کیا تم یقین کر لو گئے“ اگر چہ وہاں کوئی ایسی اوٹ نہیں تھی جس کے پیچھے لشکر چھپ سکتا بلکہ پہاڑی کے پیچھے بڑا میدان تھا پھر بھی اُن لوگوں نے کہا کہ اگر آپ کہیں گے تو ہم تسلیم کر لیں گے کیونکہ ہمیں پتہ ہے آپ کبھی