دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 12 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 12

12 دیا اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کونے میں چھپا دئے۔اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمر چونکہ یہ سن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے؟ آپ کے بہنوئی نے جواب دیا : آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔حضرت عمر نے کہا : یہ بات نہیں کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اس صابی (مشرکین مکہ حضرت رسول کریم ﷺ کو صابی کہا کرتے تھے ) کی باتیں سن رہے تھے انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حضرت عمر کو غصہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔حضرت عمر چونکہ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اور اُن کی بہن اچانک درمیان میں آئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور اُن کا ہاتھ زور سے اُن کی ناک پر لگا اور اُس سے خون بہنے لگا۔حضرت عمر جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اُٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا اور پھر بہن پر ہاتھ اُٹھایا ہے حضرت عمر نے بات ٹلانے کے لئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے؟ بہن نے سمجھ لیا کہ عمر کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں اُس نے کہا جاؤ تمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں میں وہ پاک چیز دینے کے لئے تیار نہیں۔حضرت عمر نے کہا ” پھر میں کیا کروں بہن نے کہا : وہ سامنے پانی ہے نہا کر آؤ تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔حضرت عمرؓ نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے