دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 31 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 31

31 الہی کا حکم دیا۔ہم اُس پر ایمان لائے اور اُس کی اتباع کی۔لیکن اس وجہ سے ہماری قوم ہم سے ناراض ہو گئی ہے اور اُس نے ہم کو دکھوں اور مصیبتوں میں ڈالا اور ہم کو طرح طرح کے عذاب دیئے اور ہم کو اس دین سے جبرا روکنا چاہا۔حتی کہ ہم تنگ آکر اپنے وطن سے نکل آئے اور آپ کے ملک میں آکر پناہ لی۔پس اے بادشاہ! ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہوتا 567 نجاشی یہ تقریرین کر بہت متاثر ہوا اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا جو کلام تم پر اترا ہے وہ مجھے سناؤ" حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے بڑی خوش الحانی سے سورہ مریم کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی۔(ترجمہ) میں اللہ کا نام لے کر پڑھتا ہوں جو بے حد کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے کھیعص اے عالم اور صادق خدا تو کافی اور ہادی ہے۔اس سورۃ میں ) تیرے رب کی (اس) رحمت کا ذکر (ہے) جو اُس نے اپنے بندے زکریا پر (اس وقت) کی ، جب اُس نے اپنے رب کو آہستہ آواز سے پکارا (اور) کہا اے میرے رب ! میری حالت تو یقینا ( ایسی ہے کہ ) میری تمام ہڈیاں تک کمزور ہوگئی ہیں اور (میرا) سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے اور اے میرے رب ! میں کبھی بھی تجھ سے دعائیں مانگنے کی وجہ سے ناکام و نامراد ) نہیں رہا۔اور میں یقیناً اپنے رشتہ داروں سے اپنے (مرنے کے ) بعد ( کے سلوک سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک دوست (یعنی بیٹا ) عطا فرما۔جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب سے جو دین و تقومی ہم کو ورثہ میں ملا ہے اس کا بھی وارث ہو۔اے میرے رب اس کو (اپنا) پسندیدہ ( وجود ) بنائیو ( اس پر اللہ نے فرمایا ) اے زکریا ! ہم تجھے ایک لڑکے کی خبر دیتے ہیں ( جو جوانی کی عمر تک پہنچے گا اور ) اس کا نام ( خدا کی طرف سے ) بیٹی ہو گا۔ہم نے اس سے پہلے کسی کو اس نام سے یاد نہیں کیا ( ذکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے حالانکہ میری