دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 9
9 آئے اور ان کو اس طرح عبادت کرتا دیکھ کر حیران رہ گئے۔پوچھا اے میرے بھتیجے یہ کیا دین ہے جو تو نے اختیار کیا ہے؟ آپ نے فرمایا میرے چچا یہ دین خدا اور اُس کے فرشتوں کا اور اُس کے رسولوں کا ہے اور ہمارے باپ ابراہیم کا ہے مجھ کو خدا نے اس دین کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا ہے۔میرے چچا میں آپ کو ہدایت کی طرف بلاتا ہوں آپ یہ دین قبول کرلیں اور ہمارا ساتھ دیں ابو طالب نے کہا ”اے بھتیجے میں اپنے باپ دادا کے طریق کو نہیں چھوڑ سکتا مگر جب تک میں زندہ ہوں دشمن تمہیں تنگ نہیں کر سکیں گے پھر ابو طالب نے اپنے بچے علی سے پوچھا تم نے یہ دین اختیار کر لیا ہے؟ ننھے علی نے جواب دیا ابا جان میں خدا اور اُس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں اور اُس کتاب پر بھی جو رسول خدا پر نازل ہوئی ہے۔یہ نماز بھی اسی دین کا حصہ ہے۔ابو طالب نے کہا بچے! محمد تمہیں بھلائی کی طرف بلاتے ہیں ان کے ساتھ رہنا۔حضرت عثمان بن عفان واقعہ فیل کے پانچ سال بعد پیدا ہوئے تھے بچپن میں پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا بڑے ہو کر تجارت میں مشغول ہوئے اپنی سچائی، دیانت امانت کی وجہ سے تجارت میں بڑی ترقی ہوئی۔تجارتی قافلوں میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ رہتا جب آنحضور ﷺ نے دعوئی فرمایا حضرت عثمان کی عمر قریباً تیس برس تھی آپ کو سب سے پہلے حضرت ابو بکر نے بتایا کہ حضرت محمد مصطفی امیہ کو خدائے واحد نے دین اسلام کا رسول بنا کر بھیجا ہے۔الله