دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 10
10 پھر آپ کی ایک خالہ سعدی بنت کریز نے بھی ذکر کیا کہ ”محمد بن عبد اللہ کے پاس جبرئیل آتے ہیں اور ایسا روشن پیغام دیتے ہیں جیسے سورج طلوع ہونے پر روشنی پھیل جاتی ہے۔آپ کے دین میں خیر ہے کبھی آپ کی مخالفت نہ کرنا ورنہ ذلت اٹھانی پڑے گی۔آپ شریف النفس انسان تھے روشنی کو پہچان گئے خود آپ کی خدمت حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا اللہ تعالی نے آپ کو یہ سعادت عطا فرمائی کہ حضرت رسول اکرم مے کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آپ کے عقد میں آئیں اسی لئے آپ ذوالنورین کہلائے۔حضرت ابو بکر کی تبلیغ سے حضرت عبدالرحمن بن عوف نے قریباً ۳۰ سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے صرف انیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا یہ دونوں حضرات آپ کی والدہ کے قبیلے بنوزہرہ سے تعلق رکھتے تھے اور بہت نیک مزاج تھے۔حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ جو آپ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ بھی کم عمری میں اسلام کی گود میں آگئے۔دو تین سال کی دعاؤں اور تبلیغی محنتوں سے اسلام قبول کرنے والے چند گنتی کے لوگ تھے۔حضرت ابو عبید اللہ بن عبد اللہ بن الجراح، حضرت عبیدہ بن الحارث، حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد، حضرت ابو حذیفہ بن عقبہ، حضرت سعید بن زید حضرت عثمان بن مظعون، حضرت عبدالله بن نبخش، حضرت عبداللہ بن جحش ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت بلال بن رباح، حضرت عامر بن نبیرہ ، حضرت خباب بن الارت، حضرت ابوذر غفاری، حضرت اسماء بنت ابی بکر، حضرت فاطمہ بنت خطاب، حضرت ام فضل زوجہ عباس بن عبد المطلب یہ چند لوگ جن میں کم عمر بچے اور نو جوان شامل تھے یا غریب کمزور بوڑھے اس طرح کے غریب مزاج لوگ اپنے خاندان یا قبیلے میں اتنے اہم نہیں تھے کہ ان کے قبول اسلام سے متاثر ہو کر لوگ اسلام کی طرف راغب ہوں۔تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے یہ لوگ اپنے اسلام کو چھپا کر رکھتے بعض اوقات ایک دوسرے سے ملنے والے مسلمان ہوتے مگر ایک دوسرے پر ظاہر نہ کرتے۔اسلام کی ابتدا ایسے ہی کمزور غریب