دعوت الامیر — Page 53
(or) دعوة الامير منسوخ کرتا۔عقلمند انسان کا کام ہوتا ہے کہ ہر ایک مضمون پر پورے طور پر غور کرے اور لفظوں کی تہ تک پہنچے۔غالباً انہیں لوگوں کے متعلق اسی قسم کے دھوکے میں پڑ جانے کا ڈر تھا جس کے باعث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُولُوا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ ( تكمله مجمع بحار الانوار جلد ۴ صفحه ۸۵ مطبوعه مطبع العالی المنشی نولکشور ۱۳۱۴ھ) یعنی اے لوگو! یہ تو کہو کہ آپ خاتم النبیین تھے مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، اگر حضرت عائشہ کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا تھا تو آپ نے لَا نَبِيَّ بَعْدَہ کہنے سے لوگوں کو کیوں روکا اور اگر اُن کا خیال درست نہ تھا تو کیوں صحابہؓ نے ان کے قول کی تردید نہ کی۔پس اُن کا لا نبی بَعْدَہ کہنے سے روکنا بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی تو آسکتا تھا مگر صاحب شریعت نبی یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آزاد نبی نہیں آسکتا تھا اور بہ کا آپ کے قول پر خاموش رہنا بتاتا ہے کہ باقی سب صحابہ بھی ان کی طرح اس مسئلہ صحابة ย کو مانتے تھے۔افسوس لوگوں پر کہ وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے اور خود ٹھو کر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی ٹھو کر کھلاتے ہیں اور پھر افسوس ان پر کہ وہ اُن لوگوں پر جو ان کی طرح ٹھوکر نہیں کھاتے ، غصے ہوتے ہیں اور انہیں بے دین اور کافر سمجھتے ہیں مگر مومن لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتا۔وہ خدا کی ناراضگی سے ڈرتا ہے۔انسان دوسرے کا کیا بگا ڑسکتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرے گا کہ اس کو مار دے مگر مومن موت سے نہیں ڈرتا اس کے لئے تو موت لقائے یار کا ذریعہ ہوتی ہے۔کاش! اگر وہ قرآن کریم پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ وہ ایک وسیع خزانہ ہے اور ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ ہے جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا