دعوت الامیر — Page 372
۳۷۲ دعوة الامير کا مقام ہے جا کر اپنی آواز سے چونکا یا ، کون روس اور افغانستان کے لوگوں کو زندگی کی نعمت بخشنے کے لیے گیا، یہی مسیح موعود کے زندہ کئے ہوئے لوگ۔کیا یہ زندگی کی علامت نہیں کہ چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی نظر نہیں آتا جو تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کے لیے اپنے گھر سے نکلا ہو لیکن ایک مٹھی بھر احمد یوں میں سے سینکڑوں اس کام پر لگے ہوئے ہیں اور اُن ممالک میں تبلیغ کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو مسلمان بنارہے ہیں جن کی نسبت خیال بھی نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ کبھی اسلام کا نام بھی سنیں گے۔اگر اس جماعت کے افراد میں نئی زندگی نہیں پیدا ہوئی تو انہوں نے دنیا کا نقشہ کس طرح بدل دیا اور ان میں تن تنہا ملکوں کا مقابلہ کرنے کی جرات کیونکر پیدا ہوئی اور کس امر نے اُن کو مجبور کیا کہ وہ وطن چھوڑ کر بے وطنی میں دھکے کھاتے پھریں ، کیا اُن کے ماں باپ نہیں ، ان کی بیویاں بچے نہیں ، ان کے بہن بھائی نہیں ، اُن کے دوست آشنا نہیں ، ان کو اور کوئی کام نہیں ؟ پھر کس چیز نے ان کو دُنیا سے ہٹا کر دین کی طرف لگا دیا۔اسی بات نے کہ انہوں نے زندگی کی روح پائی اور مُردہ چیزوں کو اس زندہ خدا کے لیے جو سب زندگیوں کا سر چشمہ ہے چھوڑ دیا وہ ان میں سما گیا اور وہ اس میں سما گئے۔فَتَبَارَگ اللهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (المؤمنون : ۱۵) میں نے مسیح موعود کی جو زندگی بخش طاقت لکھی ہے یہ مشتبہ رہے گی اگر میں اس زندگی کے اثر کو بیان نہ کروں جو حقیقی معیارِ حیات ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس نے اپنی قوتِ احیاء میں ایسی زندگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کی کہ بہت سے ان میں سے نہ صرف زندہ ہی ہوئے بلکہ اُن کو بھی احیاء موتی کی طاقت دی گئی۔اگر یہ طاقت آپ کے