دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 397

دعوت الامیر — Page 255

(roo) دعوة الامير اس فضیلت کے قائل نہ تھے بلکہ یورپ کی تعلیم کے اثر سے اُم الالسة کو دوسرے ممالک کی زبانوں میں تلاش کر رہے تھے ان حالات میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیا جانا کہ اصل میں عربی زبان ہی اُمُ الْأَلْسِنَةِ ہے ایک قابلِ حیرت انکشاف تھا، مگر قرآن کریم پر تدبر کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ انکشاف قرآن کریم کی تعلیم کے بالکل مطابق تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وہ کلام جو ساری دنیا کی طرف نازل ہونا تھا اسی زبان میں نازل ہونا چاہئے تھا جو سب سے ابتدائی زبان ہونے کے لحاظ سے ساری دنیا کی زبان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلِ الَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ (ابراهیم: ۵) ہم کوئی رسول نہیں بھیجتے مگر اسی زبان میں اس پر کتاب نازل کرتے ہیں جو اُن لوگوں کی زبان ہوتی ہے جن کی طرف وہ مبعوث ہوا ہو۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تو آپ کی طرف اسی زبان میں کلام نازل ہونا چاہئے تھا جو بوجہ اُمُ الْأَلْسِنَةِ ہونے کے ساری دنیا کی زبان کہلا سکے اور چونکہ آپ پر عربی زبان میں کلام نازل ہوا ہے اس لیے عربی زبان ہی اُم الْأَلْسِنَةِ ہے۔آپ نے اس انکشاف کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ایسے اصول مدوّن کئے جن سے روز روشن کی طرح ثابت کر دیا کہ فی الواقع عربی زبان ہی اُمُ الْأَلْسِنَةِ اور الہامی زبان ہے اور باقی کوئی زبان ام الالسنۃ کہلانے کی مستحق نہیں۔آپ نے اس تحقیق کے متعلق ایک کتاب بھی لکھنی چاہی جو افسوس کہ نامکمل رہ گئی مگر اصل الاصول آپ نے اُس میں بیان کر دیئے جن کو پھیلا کر اس امر کو دنیا کے ذہن نشین کیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میرا منشاء ہے کہ اُن اُصول کے ماتحت جو آپ نے تجویز کئے ہیں اور اس علم کے مطابق جو آپ نے اس کتاب میں مخفی رکھا ہے ایک کتاب تصنیف کروں جس میں