دعوت الامیر — Page 215
(۲۱۵) دعوة الامير علیہ وسلم سے دو یا دو سے زیادہ باتیں مروی ہیں اور مسلمانوں کے بعض حصے بعض روایتوں پر اور بعض حصے بعض روایتوں پر ہمیشہ عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ان کے بارہ میں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ وہ سب طریق درست اور مطابق سنت ہیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو کس طرح ممکن تھا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک حصہ ایک طریق کو اختیار کر لیتا اور دوسرا حصہ دوسرے طریق کو۔اصل بات یہ ہے کہ بعض امور میں اختلاف طبائع کو مد نظر رکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی طرح اُن کے کرنے کی اجازت دیدی ہے یا خود کئی طریق پر بعض کا موں کو کر کے دکھا دیا ہے تا کہ لوگوں کے دلوں میں شک نہ رہے جیسے رفع یدین ہے کہ کبھی آپ نے رفع یدین کیا، کبھی نہیں کیا، یا آمین بالجہر ہے کہ کسی نے آپ کے پیچھے آمین بالجہر کہا کسی نے نہ کہا اور آپ نے دونوں طریق کو پسند کیا۔اسی طرح ہاتھوں کا باندھنا ہے کبھی کسی طرح باندھا، کبھی کسی طرح باندھا۔اب جس شخص کی طبیعت کو جس طریق سے مناسبت ہو اس پر کار بند ہو اور دوسرے لوگ جو دوسری روایت پر عمل کرتے ہیں ان پر حرف گیری نہ کرے۔کیونکہ وہ دوسری سنت یا رخصت پر عمل کر رہے ہیں ، غرض ان اصول کو مقرر کر کے آپ نے تمام وہ اختلافات اور فتنے دور کر دیئے جو مسائل فقہیہ کے متعلق مسلمانوں میں پیدا ہورہے تھے اور پھر صحابہ کرام کے زمانے کی یاد کو تازہ کر دیا۔یہ ایک مختصر نقشہ ہے اس اندرونی اصلاح کا جو آپ نے کی اگر اس کی تفصیل کی جائے تو مستقل کتاب اسی مضمون پر لکھنے کی ضرورت پیش آئے اس لئے میں اسی پر کفایت کرتا ہوں۔اب جناب اس سے معلوم کر سکتے ہیں کہ حضرت اقدس نے اسلام کے اندر جس قدر نقائص پیدا کر دیئے گئے تھے خواہ عقائد میں خواہ اعمال میں سب کو دور