دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 397

دعوت الامیر — Page 212

(rir) دعوة الامير نماز ، روزہ ، زکوۃ ، ورثہ ہر ایک امر کے متعلق اس قدر اختلاف ہے کہ حقیقت بالکل پوشدہ ہو گئی ہے اور چھوٹی سے چھوٹی بات کو اصل اسلام قرار دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کر نے والے کے ساتھ جھگڑا کیا جاتا ہے۔مسلمان کہلانے والوں نے اپنے بھائیوں کی انگلیاں اس لئے تو ڑ دی ہیں کہ وہ تشہد کی انگلی کیوں کھڑی کرتے ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے مونہوں میں نجاستیں ڈالی ہیں کہ اس منہ سے آمین بالجبر کیوں نکلی تھی ، غرض عملی حصہ بھی اسی تغیر و تبدل اور اسی فساد کا شکار ہو رہا ہے جیسا کہ اعتقادی حصہ تھا۔حضرت اقدس نے اس حصہ کی بھی اصلاح کی اور ایک طرف تو اباحت کے طریق کو باطل ثابت کیا اور بتایا کہ شفاعت ان لوگوں کے لئے ہے جو گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کرتے ہیں مگر پھر بعض وجوہ سے ان میں گر جاتے ہیں اور بعض کوتاہیاں اُن کی باقی رہ جاتی ہیں نہ ان کے لئے جو شفاعت کی خاطر گناہ کرتے ہیں۔شفاعت گناہ کے مٹانے کے لئے تھی نہ کہ گناہ کی اشاعت کے لئے۔اسی طرح یہ بتایا کہ گو شریعت اصل مقصود نہیں مگر عبودیت اصل مقصود ہے پس جس کام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جس وقت تک دیا ہے اسے بجالانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کا قرب کوئی محدود شے نہیں کہ کہا جائے کہ اب قرب حاصل ہو گیا ہے۔اب عبادت کی ضرورت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جب وفات تک ایاگ نَعْبُدُ (الفاتحة: ۵) اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: ۲) کہتا رہا اور آپ کو رَبِّ زِدْنِی عِلْمًا (طه: ۱۱۵) کہنے کاحکم ملا تو اور کون شخص ہے جو کہے کہ میں منزل مقصود تک پہنچ گیا ہوں۔اب مجھے عبادت کی ضرورت نہیں۔در حقیقت اس قسم کے خیال کے لوگ اللہ تعالیٰ