دعوت الامیر — Page 161
(II) دعوة الامير میں کئی موعود جن کی غرض یہ ہو کہ سب دنیا میں صداقت کو پھیلائیں اور اپنی قوم کو غالب کریں ناممکن ہے آپ نے ثابت کر دیا کہ در حقیقت سب مذاہب مختلف ناموں کے ساتھ ایک ہی موعود کو یاد کر رہے تھے اور وہ موعود آپ ہیں اور چونکہ نبی کسی قوم کا نہیں ہوتا جو خدا کے لئے اس کے ساتھ ہو وہ اس کا ہوتا ہے اس لئے وہ گویا ہر مذہب کے پیروؤں کے اپنے ہی آدمی ہیں اور آپ کے ماننے سے ان کی تمام ترقیات وابستہ ہیں اور آپ کو ماننے کے یہ معنے ہیں کہ اسلام میں داخل ہوں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ پیشگوئی پوری ہو جائے کہ مسیح موعود اس لئے نازل ہوگا تا لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ دین اسلام کو سب دینوں پر غالب کرے۔یہ حربہ ایسا کاری ہے کہ کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، ہر مذہب میں آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے اور جو علامات بتائی گئی ہیں وہ اس زمانے میں پوری ہو چکی ہیں لیکن مدعی سوا آپ کے اور کوئی کھڑا نہیں ہوا۔پس یا تو اپنے مذاہب کو لوگ جھوٹا سمجھیں یا مجبور ہو کر تسلیم کریں کہ یہ اسلام کا موعود ہی ان کتابوں کا موعود تھا اور اس پر ایمان لائیں۔ان دوصورتوں کے سوا اور کوئی تیسری صورت مذاہب عالم کے پیروؤں کے لئے کھلی نہیں اور ان دونوں صورتوں میں اسلام کو غلبہ حاصل ہو جاتا ہے۔کیونکہ اگر دیگر ادیان کے پیرو اپنے مذاہب کو جھوٹا سمجھ کر چھوڑ بیٹھیں تب بھی اسلام غالب رہا اور اگر وہ ان مذاہب کو سچا کرنے کے لئے ان کی پیشگوئی کے مطابق اس زمانے کے مصلح کو قبول کر لیں تب بھی اسلام غالب رہا۔یہ وہ حملہ ہے کہ جوں جوں مذاہب غیر کے پیروؤں پر اس حملے کا اثر ہوگا وہ اسلام کے قبول کرنے پر مجبور ہوں گے اور آخر اسلام ہی اسلام دنیا میں نظر آنے لگے گا۔مسیح موعود نے سنت انبیاء کے ماتحت بیج بو دیا ہے۔درخت اپنے وقت پر نکل کر پھل دے گا اور دنیا