دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 397

دعوت الامیر — Page 60

دعوة الامير خطرناک مظالم میں سے جو رسول مقبول پر کئے گئے ہیں ، ایک یہ ظلم ہے کہ خود مسلمانوں نے آپ کو جو رحم مجسم تھے جو ایک چیونٹی کو بھی ضرر دینا پسند نہیں کرتے تھے دشمنانِ اسلام کے سامنے ایسی شکل میں پیش کیا ہے کہ ان کے دل آپ سے متنفر ہو گئے ہیں اور ان کے دماغ آپ کے خلاف خیالات سے بھر گئے ہیں۔میں چاروں طرف سے جہاد جہاد کی آواز سنتا ہوں ، مگر وہ کونسا جہاد ہے جس کی طرف خدا اور اس کا رسول لوگوں کو بلاتے تھے اور آج کو نسا جہاد ہے جس کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے قرآن کریم جس جہاد کی طرف ہمیں بلاتا ہے وہ تو یہ ہے کہ فَلَا تُطِعِ الْكَفِرِيْنَ وَجَاهِدُ هُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان : ۵۳) یعنی کافروں کی بات نہ مان اور اس قرآن کے ذریعہ سے کفار کے ساتھ ایک بہت بڑا جہاد کر مگر آج کیا مسلمان اسی جہاد بالقرآن کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔کس قدر لوگ ہیں جو قرآن کریم ہاتھ میں لے کر کافروں کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ہیں، کیا اسلام اور قرآن میں کوئی بھی ذاتی جو ہر نہیں۔جس سے وہ لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں، اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اسلام کے سچا ہونے کا کیا ثبوت ہے۔انسانوں کے کلام لوگوں کا دل قابو میں کر لیتے ہیں مگر صرف خدا ہی کا کلام ایسا بے اثر ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کے دل فتح نہیں ہو سکتے اس لئے تلوار کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کو منوایا جائے مگر آج تک نہیں دیکھا گیا کہ تلوار کے ساتھ دل فتح کئے جا سکے ہوں اور اسلام تو اس بات پر لعنت بھیجتا ہے کہ مذہب ڈر یالالچ سے قبول کیا جائے ، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ (المنافقون : ۲) یعنی منافق جب تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول