دعوت الامیر — Page 52
(۵۲) دعوة الامير صرف اور مسجدیں بنوار ہے ہیں بلکہ اس قدر مساجد تیار کر وار ہے ہیں کہ آج بعض شہروں میں مساجد کی زیادتی کی وجہ سے بہت سی مساجد ویران پڑی ہیں۔بعض جگہ تو مسجدوں میں بین بیس گز کا فاصلہ بھی بمشکل پایا جاتا ہے اگر اخِرُ الْأَنْبِيَاءِ کے آنے کے باعث کوئی انسان نبی نہیں ہو سکتا تو اخرُ الْمَسَاجِد کے بعد دوسری مسجد میں کیوں بنوائی جاتی ہیں۔اس سوال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ مسجد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی مسجدیں ہیں کیونکہ اُن میں اسی طریق پر عبادت ہوتی ہے جس طریق کی عبادت کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوائی تھی۔پس بوجہ ظلیت کے یہ اس سے جدا نہیں ہیں اس لئے اس کے آخر ہونے کی نفی نہیں کرتیں۔یہ جواب درست ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح فَإِنِی اخرُ الْأَنْبِيَاءِ کے باوجود ایسے نبی بھی آسکتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور ظل کے ہوں اور جو بجائے نئی شریعت لانے کے آپ ہی کی شریعت کے متبع ہوں اور آپ کی تعلیم کے پھیلانے ہی کے لئے بھیجے گئے ہوں اور سب کچھ اُن کو آپ ہی کے فیض سے حاصل ہوا ہو۔اس قسم کے نبیوں کی آمد سے آپ کے آخر الانبیاء ہونے میں اسی طرح فرق نہیں آتا جس طرح آپ کی مسجد کے نمونے پر نئی مساجد کے تیار کرانے سے آپ کی مسجد کے آخر المساجد ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔اسی طرح لا نَبِيَّ بَعْدِی کے بھی یہ معنی نہیں کہ آپ کی بعثت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ اس کے بھی یہ معنی ہیں کہ ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔کیونکہ بعد وہی چیز ہوسکتی ہے جو پہلی کے ختم ہونے پر شروع ہو۔پس جو نبی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تائید کے لئے آئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی نہیں کہلا سکتا۔وہ تو آپ کی نبوت کے اندر ہے بعد تو تب ہوتا جب آپ کی شریعت کا کوئی حکم