دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 397

دعوت الامیر — Page 51

۵۱ دعوة الامير کا ہم ازالہ کر دیتے ہیں اور وہ اس طرح کہ گوجسمانی طور پر یہ مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں تو بھی یہ ابتر نہیں کہلا سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔پس اس کا روحانی سلسلہ وسیع ہوگا اور اس کی روحانی اولاد بے انتہاء ہوگی پھر و خاتم النبیین فرما کر پہلے مضمون پر اور ترقی کی کہ نہ صرف بہت سے مومن اس کی اولاد میں ہوں گے بلکہ یہ نبیوں کی بھی مہر ہے اس کی مُہر سے انسان نبوت کے مقام پر پہنچ سکے گا۔پس نہ صرف معمولی آدمیوں کا یہ باپ ہوگا بلکہ نبیوں کا بھی باپ ہوگا۔غرض اس آیت میں تو اس قسم کی نبوت کا دروازہ کھولا گیا ہے جو پہلے بیان ہو چکی ہے نہ کہ بند کیا گیا ہے۔ہاں اس نبوت کا دروازہ بیشک اس آیت سے بند کر دیا گیا ہے جونئی شریعت کی حامل ہو یا بلا واسطہ ہو، کیونکہ وہ نبوت اگر باقی ہو تو اس سے آپ کی روحانی ابوت ختم ہو جائے گی اور اس کی اس آیت میں نفی کی گئی ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔فَإِنِّىٰ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوة بمسجدى مكة والمدينة ) اور اسی طرح یہ فرمایا۔لَا نَبِيَّ بَعْدِئ۔(مسلم کتاب الامارة باب وجوب الوفاء ببيعة الخليفة الاوّل فالاول) پس ان احادیث کی رُو سے آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا مگر افسوس کہ یہ لوگ آخر الانبیاء تو دیکھتے ہیں، مگر مسلم کی حدیث میں جو اس کے ساتھ ہی وَاِنَّ مَسْجِدِى أَخِرُ الْمَسَاجِدِ (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوة بمسجدى مكة والمدينة ) آیا ہے اسے نہیں دیکھتے۔اگر فانّي أخِرُ الْأَنْبِيَاءِ کے معنی ہیں کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں تو وَانَّ مَسْجِدِئ اخر الْمَسَاجِدِ کے بھی یہ معنی ہوں گے کہ مسجد نبوی کے بعد کوئی مسجد نہیں بنوائی جاسکتی لیکن وہی لوگ جو فَإِنّى اخر الأَنْبِيَاءِ کے الفاظ سے استدلال کر کے ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دیتے ہیں۔وہ وَإِنَّ مَسْجِدِئ آخِرُ الْمَسَاجِدِ کے الفاظ کی موجودگی میں نہ