دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 397

دعوت الامیر — Page 309

(r۔q) دعوة الامير الْكَسَوْفَ وَالْحُسَوْفَ أَيَتَانِ مُخَوَفَتَانِ وَإِذَا اجْتَمَعَا فَهُوَ تَهْدِيدْ شَدِيدُ مِّنَ الرَّحْمَنِ وَإِشَارَةً إِلَى اَنَّ الْعَذَابَ قَدْ تَقَرَّرَ وَاحِدَ مِنَ اللَّهِ لِاَهْلِ الْعَدْوَانِ ( نور الحق حصہ دوم صفحہ ۴۶ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۳۲) یعنی کسوف و خسوف اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو ڈرانے والے نشان ہیں اور جب اس طرح جمع ہو جائیں جس طرح اب جمع ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور تنبیہہ اور اس بات کی طرف اشارہ ہوتے ہیں کہ عذاب مقرر ہو چکا ہے اُن لوگوں کے لیے جو سرکشی سے باز نہ آویں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے پورا کرنے کے لیے آپ کے دل میں تحریک کی کہ آپ ایک وباء کے لیے دعا کریں، چنانچہ آپ اپنے ایک عربی قصیدے میں جو ۱۸۹۴ ء میں چھپا ہے فرماتے ہیں فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْ كَانَ الْوَبَاءِ الْمُتَيِّرُ فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِنْدَ أوْلِي النُّهَى اَحَبَّ وَأَوْلَىٰ مِنْ ضَلَالٍ يُدَقِرَ (خطبہ الہامیہ صفحه ۳۰۳ روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۳۰۳) یعنی جب ہلاک کر دینے والا فسق ایک طوفان کی طرح بڑھ گیا تو میں نے اللہ تعالیٰ سے چاہا کہ کاش ایک وباء پڑے جولوگوں کو ہلاک کر دے۔کیونکہ عقلمندوں کے نزد یک لوگوں کا مرجانا اس سے زیادہ پسندیدہ اور عمدہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ تباہ کر دینے والی گمراہی میں مبتلاء ہو جائیں۔اس کے بعد ۱۸۹۷ء میں آپ نے اپنی کتاب سراج منیر میں لکھا کہ اس عاجز کو الہام ہوا ہے یا مَسِيحَ الْخَلْقِ عَدُوانا ( ایام اصلح صفحہ ۱۲۰ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۶) اے خلقت کے لیے مسیح ہماری متعدد بیماریوں کے لئے توجہ کر۔پھر فرماتے ہیں۔دیکھو یہ کس