دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 397

دعوت الامیر — Page 18

(IA) دعوة الامير سے افصح جانتے ہیں اور ہر غلطی سے مبراء سمجھتے ہیں، ہم مخلوق ہو کر اپنے خالق کی غلطیاں کیونکر نکالیں اور جاہل ہو کر علیم کو سبق کیونکر دیں۔ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم یہ کہو کہ خدا کے کلام میں غلطی ہو گئی مگر یہ نہ کہو کہ خود ہم سے خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہوگئی، مگر ہم اس نصیحت کو کس طرح تسلیم کر لیں کہ اس میں ہمیں صریح ہلاکت نظر آتی ہے۔آنکھیں ہوتے ہوئے ہم گڑھے میں کس طرح گر جائیں اور ہاتھ ہوتے ہوئے ہم زہر کے پیالہ کو اپنے منہ سے کیوں نہ ہٹا ئیں۔خدا تعالیٰ کے بعد ہمیں خاتم الانبیاءمحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو سب انبیاء سے بڑا درجہ دیا ہے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمیں جو کچھ ملا ہے آپ ہی سے ملا ہے اور جو کچھ آپ نے ہمارے لئے کیا ہے اس کا عشر عشیر بھی اور کسی انسان نے خواہ نبی ہو یا غیر نبی ہمارے لئے نہیں کیا۔ہم آپ سے زیادہ کسی اور انسان کو عزت نہیں دے سکتے۔ہمارے لئے یہ بات سمجھنی بالکل ناممکن ہے کہ حضرت مسیح ناصری کو زندہ آسمان پر چڑھا دیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیر زمین مدفون سمجھیں اور پھر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھیں کہ آپ مسیح سے افضل بھی ہیں کس طرح ممکن ہے کہ وہ جسے اللہ تعالیٰ نے ذرا سا خطرہ دیکھ کر آسمان پر اٹھالیا ادنی درجہ کا ہو اور وہ جس کا دور دور تک دشمنوں نے تعاقب کیا مگر خدا تعالیٰ نے اسے ستاروں تک بھی نہ اٹھا یا اعلیٰ ہو۔اگر فی الواقع مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور ہمارے سردار و آقا زمین میں مدفون ہیں تو ہمارے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی موت نہیں اور ہم مسیحیوں کو منہ بھی نہیں دکھا سکتے ، مگر نہیں یہ بات نہیں، خدا تعالیٰ اپنے پاک رسول سے یہ سلوک نہیں کر سکتا۔وہ احکم الحاکمین ہے یہ کیونکر ممکن تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوسید ولد آدم بھی بنا تا اور پھر مسیح علیہ