دعوت الامیر — Page 17
دعوة الامير سے اس کی ہتک ہو جاتی ہے جب اس سے بڑے درجہ کے نبی فوت ہو گئے اور ان کی ہتک نہ ہوئی تو مسیح علیہ السلام کے فوت ہو جانے سے ان کی ہتک کس طرح ہو جائے گی۔لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر کسی وقت ہمیں اس بات سے چارہ نہ ہو کہ یا خدا تعالیٰ کی ہتک کریں یا مسیح علیہ السلام کی تو ہم بخوشی اس عقیدے کو تسلیم کر لیں گے جس سے مسیح علیہ السلام کی ہتک ہوتی ہومگر اس کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے جس میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہوتی ہوا اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام بھی جو اللہ تعالیٰ کے عُشاق میں سے تھے کبھی گوارا نہ کریں گے کہ ان کی عزت تو قائم کی جائے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کو صدمہ پہنچایا جائے لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ (التاء - ۱۷۳) ہم خدا کے کلام کو کہاں لے جائیں اور جس مُنہ سے وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَ فَيَتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِم وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيد (المائدة: ۱۱۸) کی آیت پڑھیں جس میں اللہ تعالیٰ خود حضرت مسیح ناصری کی زبانی بیان فرماتا ہے کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد بگڑے ہیں ان کی حیات میں وہ اپنے بچے دین پر ہی قائم رہے ہیں، اسی منہ سے یہ کہیں کہ حضرت مسیح " زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں، ہم خدا تعالیٰ کے کلام یعیسى إِنِّي مُتَوَ فِيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (ال عمران: ۵۶) کوکس طرح نظر انداز کر دیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا، بیشک وہ جو خدا سے زیادہ فصیح زبان جاننے کے دعویدار ہیں کہ دیں کہ اُس نے مُتَوَ فیگ کو جو حضرت مسیح کی وفات کی خبر دیتا ہے پہلے بیان کر دیا ہے اصل میں رافِعُگ پہلے چاہئے تھا مگر ہم تو اللہ تعالیٰ کے کلام کو تمام کلاموں