دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 397

دعوت الامیر — Page 221

(rri دعوة الامير مریدوں یا اپنے پیر بھائیوں کی مدد سے آپ کو یہ کامیابی حاصل ہوگئی۔آپ کسی عہدہ حکومت پر ممتاز نہ تھے کہ یہ سمجھا جائے کہ آپ کے اختیارات سے فائدہ اٹھانے کے لئے لوگ آپ کے ساتھ مل گئے۔آپ ایک تارک الدنیا، لوگوں سے علیحدہ رہنے والے آدمی تھے۔جن کو خلوت نشینی کے باعث قرب وجوار کے باشندے بھی نہیں جانتے تھے صرف چندلوگوں سے آپ کے تعلقات تھے جن میں سے زیادہ تر تو یتیم اور مسکین لوگ تھے جن کو آپ اپنے کھانے میں سے کھانا دے دیا کرتے تھے یا خود فاقہ سے رہ کر اپنی روٹی اُن کو کھلا دیتے تھے یا پھر چند وہ لوگ تھے جو مذہبی تحقیق سے دلچسپی رکھتے تھے۔باقی کسی شخص سے آپ کا تعلق نہ ہوتا۔نہ آپ لوگوں سے ملتے تھے، نہ لوگوں کو ضرورت ہوتی تھی کہ آپ سے ملیں۔دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ممکن سے ممکن جو روکیں ہوسکتی ہیں وہ آپ کے راستے میں تھیں۔آپ کا دعویٰ ماموریت کا تھا اور آپ کے دعوے کو سچا مان کر علماء کی حکومت جو انہیں سینکڑوں سال سے لوگوں پر حاصل تھی جاتی رہتی تھی۔اس لئے علماء کو طبعاً آپ سے مخالفت تھی۔وہ آپ کی ترقی میں اپنا تنزل اور آپ کے بڑھنے میں اپنا زوال دیکھتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ اگر ایک شخص خدا سے خبر پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا ہو گیا تو پھر ہمارے قیاسات کو کون پوچھتا ہے۔گدی نشین آپ کے دشمن تھے کیونکہ آپ کی صداقت کے پھیلنے سے اُن کے مُرید اُن کے ہاتھوں سے جاتے تھے اور بجائے شیخ اور رہبر کہلانے کے ایک دوسرے شخص کا مرید بن کر اُن کو رہنا پڑتا تھا اور پھر مریدوں کے جانے کے ساتھ اُن آمد نیوں میں بھی فرق آتا تھا، جن پر اُن کا گزارہ تھا اور ان آزادیوں میں بھی فرق آتا تھا جنہیں وہ اپنا حق سمجھتے تھے۔