دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 397

دعوت الامیر — Page 220

(rr۔) دعوة الامير راستے میں کیا کیا روکیں تھیں (۳) آپ کا دعوی کس قسم کا تھا، یعنی کیا دعوئی بطور خود ایسی کشش رکھتا تھا جس کی وجہ سے آپ کو ظاہری سامانوں پر نظر کرتے ہوئے کامیابی کی اُمید ہو سکے۔سوال اول کا جواب یہ ہے کہ گو آپ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مامور ہمیشہ اعلیٰ خاندانوں میں سے ہوتے ہیں ، تا کہ لوگوں پر اُن کا ماننا دو بھر نہ ہو، مگر آپ کا خاندان دنیاوی وجاہت کے لحاظ سے اپنی پہلی شوکت کو بہت حد تک کھو چکا تھا وہ اپنے علاقہ کے خاندانوں میں سے غریب خاندان تو نہیں کہلا سکتا مگر اس کی پہلی شان و شوکت اور حکومت کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ ایک غریب خاندان تھا، کیونکہ اس کی ریاست اور جاگیر کا اکثر حصہ ضائع ہو چکا تھا، اول الذکر ( یعنی ریاست) سکھوں کے عہد میں ضبط ہوگئی تھی اور ثانی الذکر ( یعنی جاگیر ) انگریزی حکومت کے آنے پر ملحق کر لی گئی تھی۔پس دنیا وی وجاہت اور مال کے لحاظ سے آپ کو کوئی ایسی فوقیت حاصل نہ تھی جس کی وجہ سے یہ کہا جاسکے کہ لوگوں نے اپنی اغراض اور اپنے مقاصد کے پورا کرنے کے لئے آپ کو مان لیا۔گو آپ کے والد صاحب نے استاد کھ کر آپ کو تعلیم دلوائی تھی لیکن وہ تعلیم اس تعلیم کے مقابلے میں کچھ بھی نہ تھی جو مدارس میں دی جاتی ہے اس لئے آپ اپنے علاقہ میں یا اپنے علاقہ سے باہر مولویوں اور عالموں میں سے نہیں سمجھے جاتے تھے۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بوجہ بڑے عالم ہونے کے آپ کو لوگوں نے مان لیا۔آپ پیروں یا صوفیوں کے کسی خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے نہ آپ نے کسی پیر یا صوفی کی بیعت کر کے اُس سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا کہ یہ سمجھا جائے کہ خاندانی