دعوت الامیر — Page 219
(۲۱۹) دعوة الامير اور تائید کا دروازہ بند کر دیتے اور اسے ہلاکت کا منہ دکھاتے۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايْتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُوْنَ (الانعام: ۲۲) اور اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔بات یہ ہے کہ ظالم کا میاب نہیں ہوتے یعنی جب کہ ظالم کا میاب نہیں ہوتا تو یہ اللہ تعالیٰ کا گنہگار جوسب قسم کے روحانی ظالموں سے زیادہ ظالم ہے کب کامیاب ہوسکتا ہے۔مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو قانون جاری ہیں ایک یہ کہ وہ اپنے رسولوں کی نصرت کرتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ جو لوگ یہ جانتے ہوئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کر رہے ہیں ایک بات جھوٹ بنا کر پیش کر دیں تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد نہیں ملتی بلکہ وہ ہلاک کئے جاتے ہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ جو بات پہلے میں نے عقلاً ثابت کی تھی ، قرآن کریم بھی اس کی تائید کرتا ہے بلکہ اسے سنت اللہ قرار دیتا ہے۔اس سنت الہیہ اور ازلی قانون کے مطابق ہم حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے پر غور کرتے ہیں تو آپ کی صداقت ہمیں روز روشن کی طرح ثابت نظر آتی ہے اور آپ کی کامیابی کو دیکھ کر اس امر میں کسی قسم کا شک و شبہ ہی نہیں رہتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فرستادہ اور مرسل ہیں۔پیشتر اس کے کہ یہ دیکھا جائے کہ (۱) آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا کیا نصرتیں اور تائیدیں حاصل ہوئیں۔یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ آپ نے کن حالات کے ماتحت دعویٰ کیا تھا۔یعنی وہ کون سے سامان تھے جو آپ کی کامیابی میں مد ہو سکتے تھے (۲) آپ کے