دعوت الامیر — Page 191
(191) دعوة الامير اور نہ اُن پر ان کی موجودہ شکل میں عمل کرنے کا حکم ہے۔قرآن کریم کے متعلق مسلمانوں کے جو عقائد ہیں ان کو دیکھ کر مجھے سخت حیرت ہوتی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ یہ حیرت مجھے صرف اس سبب سے ہے کہ میں نے مسیح موعود پر ایمان لا کر اس سے اصل حقیقت کو معلوم کر لیا ہے ورنہ میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح قرآن کریم کے متعلق کسی نہ کسی غلطی کا مرتکب ہوتا ، بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد معا ہی عملاً دنیا سے اٹھا یا گیا اور اس کا ایک بیشتر حصہ نعوذ باللہ من ذالک دنیا سے مفقود ہو گیا ہے بعض کے نزدیک جو موجودہ قرآن ہے اس میں بھی انسانی تصرفات کا اثر موجود ہے بعض لوگ اس قسم کے خیالات کو تو سختی سے رڈ کرتے ہیں اور ان کو کفر قرار دیتے ہیں، لیکن خود اس قسم کے اور خطر ناک عقائد پیش کرتے ہیں۔مثلاً یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ منسوخ شدہ ہے اور منسوخ قرار دینے کا ذریعہ انہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ جو آیت دوسری آیت کے خلاف معلوم ہو وہ منسوخ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ کسی کو بعض اور آیتوں میں اختلاف نظر آیا ہے اور کسی کو بعض اور میں۔اس نے ان کو منسوخ قرار دے دیا اور اس نے ان کو اور قرآن کریم کا ایک معتد بہ حصہ منسوخ قرار پا کر قابل عمل نہیں رہا، نعوذ باللہ من ذالک۔اس طریق سے یہی نقصان نہیں ہوا کہ قرآن کریم کے بعض حصے منسوخ قرار پاگئے بلکہ ایک خطر ناک اثر اس کا یہ ہوا کہ طبائع میں یہ خلجان پیدا ہو گیا ہے کہ جبکہ اس کے اندر بعض حصے منسوخ ہیں بعض غیر منسوخ ، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ نہیں بتایا کہ کونسا حصہ منسوخ ہے اور کونسا حصہ منسوخ نہیں تو اس کتاب کا اعتبار ہی کیارہا، ہر شخص کو جو حصہ پسند آیا اس نے اسے اصل قرار دیدیا اور دوسرے کو منسوخ قرار دے دیا۔