دعوت الامیر — Page 172
(۱۷۲ دعوة الامير نظارہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔پانچواں حربہ جو حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے چلا یا اور جس سے دیگر مذاہب کے جھنڈوں کو کلی طور پر سرنگوں کردیا اور اسلام کو ایساغلبہ عطا کیا جس غلبے کا کوئی شخص انکار ہی نہیں کر سکتا یہ ہے کہ آپ نے بڑے زور سے دشمنانِ اسلام کے سامنے یہ بات پیش کی کہ مذہب کی اصل غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔پس وہی مذہب سچا ہوسکتا ہے اور موجودہ زمانے میں خدا تعالیٰ کا پسندیدہ دین کہلاسکتا ہے جو بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کر اسکے اور اس تعلق کے آثار دکھا سکے، ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا بھی کوئی نہ کوئی اثر ہوتا ہے۔آگ اگر جسم کو لگتی ہے یا اس کے پاس ہی ہم بیٹھتے ہیں تو جسم یا جل جاتا ہے یا گرمی محسوس کرتا ہے۔پانی ہم پیتے ہیں تو فوراً ہماری اندرونی تپش کے زائل ہو جانے کے علاوہ ہمارے چہرہ سے بشاشت اور طراوت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں، عمدہ غذا کھا ئیں تو جسم فربہ ہونے لگ جاتا ہے ورزش کرنے لگیں تو جسم میں مضبوطی پیدا ہو جاتی ہے اور تاب و توانائی حاصل ہوتی ہے اسی طرح دواؤں کا اثر ہوتا ہے کہ بعض دفعہ مضر اور بعض دفعہ مفید پڑتا ہے مگر یہ عجیب بات ہوگی اگر اللہ تعالیٰ کا تعلق بالکل بے اثر ثابت ہو۔عبادات کرتے کرتے ہماری ناکیں گھس جائیں اور روزے رکھتے رکھتے پیٹ پیٹھ سے لگ جائیں، زکوۃ وصدقات دیتے دیتے ہمارے اموال فنا ہو جائیں لیکن کوئی تغیر ہمارے اندر پیدا نہ ہو اور ان کاموں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے۔اگر یہ بات ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے تعلق کا فائدہ کیا اور اس کی ہمیں حاجت کیا ؟ ایک ادنی حاکم سے ہمارے تعلق کی علامت تو ظاہر ہو جاتی ہے کہ اس کے دربار میں ہمیں عزت ملتی ہے۔اس کے ماتحت ہمارا لحاظ کرنے لگتے ہیں وہ ہماری التجاؤں کو سنتا ہے اور ہماری تکلیفوں کو دور کرتا