دعوت الامیر — Page 165
(MO) دعوة الامير نسبت خلاف باتیں سنکر غم وغصہ سے بھر جاتے تھے ،غرض ایک ایسا لائینحل عقدہ پیدا ہو گیا تھا جو کسی کے سلجھانے سے نہ سمجھتا تھا ، جو لوگ تعصب سے خالی ہو کر سوچتے تھے کہ ربّ العلمین خدا نے کس طرح اپنے بندوں میں سے ایک قوم کو چن لیا اور باقیوں کو چھوڑ دیا ،مگر اس سوال کو پیش کرنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ سوال اس کے مذہب کو بیخ و بن سے اُکھاڑ کر پھینک دیتا تھا۔ہنود نے اس عقدے کو بزعم خود اس طرح حل کر لیا تھا کہ سب مذاہب خدا کی طرف سے ہیں اور بمنزلہ ان مختلف راستوں کے ہیں جو ایک محل کی طرف جاتے ہیں اور ہندو مذہب سب سے افضل ہے مگر یہ عقدہ کشائی بھی دنیا کے کام کی نہ تھی ، کیونکہ اس پر دو بڑے زبردست اعتراض ہوتے تھے جن کا کوئی جواب نہ تھا۔ایک تو یہ کہ اگر سب مذاہب اپنی موجودہ حالت میں خدا کی طرف سے ہیں اور خُدا تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں تو پھر ان میں اصولی اختلاف کیوں ہے۔بیشک تفاصیل میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر اصول میں نہیں ہوسکتا۔ایک شہر کو کئی راستے جا سکتے ہیں، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ مشرق کی طرف جانے والے راستوں میں سے بعض مغرب کی طرف سے جائیں اور بعض شمال کی طرف سے اور بعض جنوب کی طرف سے وہ تھوڑا تھوڑا چکر تو کھا سکتے ہیں مگر جائیں گے سب ایک ہی جہت کو ، دائی صداقتوں میں کبھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔یہ مانا کہ خدا نے ایک جماعت کو ایک قسم کی عبادت کا حکم دیا اور دوسری کو دوسری قسم کی عبادت کا لیکن عقل سلیم اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ اس نے ایک جماعیت سے تو یہ کہا کہ میں ایک خدا ہوں اور دوسری سے کہا کہ میں دو ہوں اور تیسری " کو باپ، بیٹا ، روح القدس کی تعلیم دی اور چوتھی کو لاکھوں بتوں میں اے اہل اسلام و یہود ۲ پارسی ۳ مسیحی ۴۔ہنود