دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 397

دعوت الامیر — Page 150

(10۔) دعوة الامي جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفوں کو چیلنج پر چیلنج د یا کہ وہ آپ کی پہلی زندگی پر حرف گیری کریں یا بتائیں کہ وہ آپ کو اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا حامل نہیں سمجھتے تھے مگر کوئی شخص آپ کے مقابلے پر نہ آیا، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ کبھی کوئی مخالف تیری سوانح پر کوئی داغ نہیں لگا سکے گا۔نزول المسیح صفحه ۲۱۴ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۰ ) اور پھر اس دعوے کے مطابق متواتر مخالفوں کو چیلنج دیا کہ وہ آپ کے مقدس چال چلن کے خلاف کوئی بات پیش کریں یا ثابت کریں کہ وہ آپ کے چال چلن کو بچپن سے بڑھاپے تک ایک اعلیٰ اور قابل تقلید نمونہ اور بے عیب نہیں سمجھتے تھے مگر باوجود بار بار مخالفوں کے اُکسانے کے کوئی شخص آپ کے خلاف نہیں بول سکا اور اب تک بھی وہ لوگ زندہ ہیں جو آپکی جوانی کے حالات کے شاہد ہیں مگر باوجود سخت مخالفت کے وہ اس امر کی گواہی کو نہ چھپا سکتے تھے اور نہ چھپا سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چال چلن حیرت انگیز طور پر اعلیٰ تھا اور بقول بہت سے ہندوؤں اور سکھوں اور مسلمانوں کے آپکے بچپن اور جوانی کی زندگی اللہ والوں کی زندگی تھی۔پس جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نفس ناطقہ آپ کی صداقت کا ایک زبر دست ثبوت تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مخالفوں کے سامنے بطور حجت کے پیش کیا ہے اسی طرح مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی زندگی آپ کی صداقت کا ثبوت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔آپ کا اپنا نفس ہی آپ کی سچائی کا شاہد ہے۔